ترکی کی امریکا،روس مذاکرات سے قبل ’اشتعال انگیز کارروائیوں‘سے گریزکی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ترکی نے روس اورامریکا کے درمیان آیندہ ہفتے ہونے والے مذاکرات سے قبل ’’اشتعال انگیزکارروائیوں‘‘کے خلاف خبردارکیا ہے تاکہ یوکرین سرحد پرروس کے فوج تعینات کرنے کے اقدام پرپیدا ہونے والی کشیدگی کو ختم کیا جاسکے۔

معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظم (نیٹو)نے جنگ کے حقیقی خطرات سے خبردارکیا ہے کہ روس سرحد پرہزاروں فوجی جمع کرنے کے بعد یوکرین پرحملہ کردے گا۔اس تناظر میں امریکا اورروس کے اعلیٰ سطح کے سفارتی حکام پیر کو جنیوا میں ملاقات کریں گے۔ان مذاکرات سے قبل روس نے امریکا اورنیٹو کے لیے مطالبات کی ایک فہرست پیش کی ہے۔

اس کے بعد روس آیندہ بدھ کو نیٹو کے تمام 30 رکن ممالک کے نمایندوں سے ملاقات کرے گا۔یہ جولائی 2019ء کے بعد اس طرح کاپہلا ٹاکرا ہوگا۔

ترکی کے وزیردفاع خلوصی عکارنے اس امید کا اظہارکیا ہے کہ یوکرین اور روس میں کشیدگی کے علاوہ روس اور نیٹو کے درمیان کشیدگی کو پرامن ذرائع سے حل کرلیا جائے گا۔

انقرہ میں ہفتے کے روز ایک نیوزبریفنگ میں عکار نے کہاکہ’’آئیے کشیدگی میں اضافہ نہ کریں، اشتعال انگیزکارروائیوں یا ایسی کارروائیوں سے گریزکریں جنھیں اشتعال انگیزسمجھا جا سکتا ہے‘‘۔انھوں نے کہا:’’یہی وجہ ہے کہ ہم اپنے مذاکرات کاروں کوبارباربتاتے ہیں کہ احتیاط سے کام لینا بہت ضروری ہے‘‘۔

وزیردفاع نے کسی ملک کا نام لیے بغیرترکی کے خلاف اس کے نیٹواتحادیوں کی جانب سے ہتھیاروں کی خریداری کی’’کھلی یاخفیہ‘‘پابندی کی تجویز پربھی تنقید کی ہے۔انھوں نے صحافیوں سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ ترک مسلح افواج کے کمزورہونے کا مطلب نیٹوکوکمزورکرنا ہوگا۔

واضح رہے کہ کینیڈا نے گذشتہ سال اپریل میں ترکی کو فوجی ہتھیاروں کی برآمدات روک دی تھیں۔اس نے یہ فیصلہ ان تحقیقات کے بعد کیا تھا جن سے یہ پتاچلا تھا کہ ترکی کو برآمد کی جانے والی کینیڈین ڈرون ٹیکنالوجی آذربائیجان نے آرمینیا کے ساتھ لڑائی میں استعمال کی تھی۔

اس سے قبل 2020ء میں امریکا نے ترکی کے خلاف روس سے میزائل دفاعی نظام کی متنازع خریداری پرپابندی عاید کردی تھی اورترکی کی فوجی سازوسامان خرید کرنےکی ذمے دارایجنسی کو نشانہ بنایا تھا۔

خلوصی عکارنے یہ بھی کہا کہ ترکی قزاقستان میں پُرتشدد ہنگاموں پر قابو پانے کے لیے حکام کی مدد کوتیار ہے۔ سابق سوویت ریاست میں اسی ہفتے ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے خلاف بڑے پیمانے پرپُرتشدد احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے ہیں۔

ترکی نے 1991 میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد سے قزاقستان جیسی ترک بولنے والی وسط ایشیائی ریاستوں کے ساتھ قریبی تعلقات استوارکرنے کی کوشش کی ہے۔عکار نے کہا کہ ہم اپنے قازق بھائیوں اوربہنوں کو ان کی درخواست پرکسی بھی قسم کی مدد دینے کوتیارہیں۔انھوں نے کہا کہ قزاقستان ہمارا ایک اہم اتحادی ہے۔ وہاں جلدامن وامان قائم ہوناچاہیے۔

قزاقستان کے صدرکثیم جومارٹ توکائیف پہلے ہی روس کی قیادت میں سابق سوویت ریاستوں پرمشتمل فوجی اتحاد اجتماعی سلامتی معاہدے کی تنظیم (سی ایس ٹی او) سے مدد مانگ چکے ہیں۔ان کی درخواست پراس اتحادفوجی دستے قزاقستان روانہ کردیے ہیں۔

یہ واضح نہیں کہ اس فورس میں کتنے فوجی بھیجے گئے ہیں۔ان میں روس، بیلاروس، آرمینیا، تاجکستان اور کرغزستان کے یونٹ شامل ہیں لیکن ماسکو کے ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی ہےکہ روسی دستے کی تعداد پانچ ہزار سے کم ہونے کی توقع ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں