جھوٹ، فراڈ پر دنیا کی کم عمر ترین ارب پتی خاتون کو 80 سال قید کا امکان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

دُنیا کی سب سے کم عمر خود ساختہ ارب پتی کو 80 سال قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ الزبتھ ہومز نے خون کی جانچ میں انقلاب لانے کا وعدہ کیا تھا لیکن یہ ان کا یہ دعویٰ جھوٹا ثابت ہوا۔

"وال اسٹریٹ جرنل" نے انکشاف کیا کہ ہومز نے خون کے تیز اور درست ٹیسٹ اور خون کے چند قطروں سے سنگین بیماریوں کی دریافت کے بارے میں اعلانات کے حوالے سے "جھوٹ" بولا ہے۔

ہومز کو کیلیفورنیا کی جیوری نے سازش اور الیکٹرانک فراڈ کے 11 میں سے 4 درجوں پر قصور وار پایا گیا۔ ہر ایک کی زیادہ سے زیادہ سزا 20 سال ہے۔

الزبتھ ہومز 2014 میں تیس سال کی عمر میں تخت پر براجمان ہوئیں۔ انہوں نے سٹینفورڈ یونیورسٹی چھوڑ دی اور بیماری کی تشخیص میں انقلاب لانے کے لیے 9 بلین ڈالر کی کمپنی بنائی۔

خون کے صرف چند قطروں کے ساتھ تھیرانوس کمپنی نے دعویٰ کیا کہ اس کا ایڈیسن ٹیسٹ کینسر اور ذیابیطس جیسی بیماریوں کا سراغ لگا سکتا ہے۔ سابق امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر اور مشہور میڈیا موگول روپرٹ مرڈوک جیسے وی آئی پیز نے اس کمپنی میں سرمایہ کاری کی ہے۔

دھوکہ دہی کا الزام

لیکن 2015 تک، چیزیں ٹوٹنے لگیں اور ایک سال کے اندر ہومز پر دھوکہ دہی کا الزام لگایا گیا۔ اس نے جس ٹیکنالوجی کو فروغ دیا اس نے کبھی کام نہیں کیا اور 2018 تک اس کی قائم کردہ کمپنی منہدم ہو گئی۔

اب ہومز کو کیلیفورنیا میں مہینوں طویل مقدمے کی سماعت کے بعد سرمایہ کاروں کو دھوکہ دینے کا مجرم قرار دیا گیا ہے۔

استغاثہ نے کہا کہ ہومز نے جان بوجھ کر اس ٹیکنالوجی کے بارے میں جھوٹ بولا جس کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ خون کے چند قطروں سے بیماریوں کا پتہ لگایا جا سکتا ہے۔ ایک جیوری نے ہومز کو سرمایہ کاروں کو دھوکہ دینے کی سازش اور الیکٹرانک فراڈ کے تین الزامات کا قصور وار قرار دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں