یمن اور حوثی

حوثیوں کی بحری قزاقی کے پس پشت پاسداران انقلاب ایران کا ہاتھ کارفرماہے:عرب اتحاد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عرب اتحاد نے کہا ہےکہ ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا بحیرہ احمر میں بین الاقوامی جہازرانی کے لیے مسلسل خطرے کا موجب ہے اور وہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کی مرتکب ہورہی ہے۔

عرب اتحاد نے اس بات پر زور دیا ہے کہ حوثی ملیشیا کی بحری قزاقی کی منصوبہ بندی ایران کی سپاہِ پاسداران انقلاب نے کی تھی۔اس نے اس ضمن میں پریس بریفنگ میں تصاویراورویڈیوز سمیت بعض دستاویزی شواہد پیش کیے ہیں۔

عرب اتحاد کے ترجمان بریگیڈیئرجنرل ترکی المالکی نے ہفتے کے روز نیوزکانفرنس میں کہا کہ حوثی ملیشیا بین الاقوامی پانیوں میں بحری قزاقی اوراغوا کی وارداتوں کے ذریعے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی مرتکب ہوئی ہے۔

المالکی نے بتایا کہ حوثیوں نے بحیرہ احمر میں جہازرانی کو نشانہ بنانے کے لیے 100 بارودی کھلونا کشتیوں کا استعمال کیا ہے۔اس کےعلاوہ یمن کی الحدیدہ بندرگاہ سے 432 بیلسٹک میزائل داغے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ عرب اتحاد نے الحدیدہ سے حوثی ملیشیا کی تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے للیے 13 خلاف ورزیوں کی اطلاع دی ہے۔انھوں نے بحیرہ احمر میں حوثی ملیشیا کی جانب سے بچھائی گئی درجنوں بارودی آبی سرنگوں کی تباہ کاری کی طرف اشارہ کیاہے۔

عرب اتحاد نے قبل ازیں یہ اطلاع دی تھی کہ حوثی ملیشیا نے بین الاقوامی پانیوں میں متحدہ عرب امارات کے پرچم بردارجہاز رابی پر حملے اوراسے اغوا کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔یہ جہاز یمن کے جزیرے سقطری میں طوفان میں گھرے متاثرہ افراد کے لیے امداد لے کرجارہا تھا۔

عرب اتحاد نے ویڈیوپریزنٹیشن میں بتایا کہ حوثیوں نے بحیرہ احمرکے جنوب میں آئل ٹینکررابغ 3 پر حملہ کیا تھااورسعودی آئل ٹینکرابقیق کو بھی نشانہ بنایا تھا۔

ترکی المالکی نے کہا کہ حوثیوں کی خلاف ورزیاں بین الاقوامی جہازرانی کوایران سے لاحق خطرات کی بھی نمائندگی کرتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں