روسی صدرپوتین اورتوکائیف کاقزاقستان میں امن وامان کی بحالی کے اقدامات پرتبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روسی صدرولادی میرپوتین اور ان کے قازق ہم منصب کثیم جومارٹ توکائیف نے قزاقستان کی صورت حال پرٹیلی فون پرتفصیلی بات چیت کی ہے۔

کریملن نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا کہ توکائیف نے صدر پوتین کو ملک کی تازہ صورت حال کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیااوربتایا کہ ملک استحکام کی طرف بڑھ رہا ہے۔

صدر کثیم توکائیف نے اس ہفتے کے اوائل میں ہونے والے مظاہروں پر قابو پانے میں مدد دینے پر اجتماعی سلامتی معاہدے کی تنظیم (سی ایس ٹی او) کے فوجی اتحاد اوربالخصوص روس کا بھی شکریہ ادا کیا۔

کریملن نے کہا کہ دونوں صدور نے قزاقستان میں امن وامان کی بحالی کے لیے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔دونوں رہ نماؤں نے آیندہ دنوں میں ’’مستقل‘‘رابطے میں رہنے اور سی ایس ٹی او کاویڈیو کانفرنس کے ذریعے اجلاس منعقد کرنے پراتفاق کیا۔

واضح رہے کہ قزاقستان کو وسط ایشیا کی پانچ سابق سوویت ریاستوں میں سے سب مستحکم خیال جاتارہا ہے لیکن اس ہفتے شہریوں کے حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے بعد وہ طوائف الملوکی کاشکار ہوگیا ہے۔اس کے بعد صدر توکائیف نے روس کی قیادت میں اتحاد کے فوجیوں کو ابتر ہوتی صورت حال پر قابو پانے کے لیے طلب کیا تھا۔

اس کے بعد فوجی اتحاد نے قزاقستان میں بڑھتی ہوئی بدامنی پرقابو پانے کے لیے اپنا پہلا فوجی دستہ بھیجا تھا۔اجتماعی سکیورٹی ٹریٹی تنظیم (سی ایس ٹی او) میں شامل روس، بیلاروس، آرمینیا، تاجکستان اور کرغزستان کی مسلح افواج کے یونٹ بھیجے گئے ہیں۔واضح رہے کہ روس کے زیرقیادت اس سکیورٹی اتحاد میں قزاقستان کے علاوہ پانچ دیگرممالک شامل ہیں۔

ان فوجیوں کا قزاقستان میں اہم کام ریاستی اور فوجی تنصیبات کا تحفظ اورقانون نافذ کرنے والے اداروں کو مدد مہیا کرناہے۔ وہ شورش زدہ ملک میں ابترصورت حال کو مستحکم کرنے میں مدد دیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں