طالبان کو اپنے’فنانسر‘ منشیات کے اسمگلر کی رہائی میں جلدی کیوں ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایسے لگتا ہے کہ گذشتہ برس اگست میں کابل پر قبضہ کرنے والے طالبان کے دل کہلانے والے ایک منشیات کی اسمگلر جنہیں امریکا میں عمر قید کی سزا کا سامنا ہے کی رہائی کے لیے طالبان امریکا کے ساتھ ڈیل کی کوشش کررہے ہیں۔ مذکورہ شخص نے طالبان کو امداد کے طور پر خطیر رقم بھی فراہم کی تھی۔

"فارن پالیسی" میگزین کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور افغانستان کے قانونی اور سفارتی ذرائع نے یکساں انکشاف کیا ہے کہ طالبان منشیات کے مالک بشیر نورزئی کو ایک امریکی انجینیر کے بدلے میں رہا کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ امریکی انجینیر ایرک فریرچ ہے جو تقریباً دو سال سے زیر حراست ہے۔

طالبان نے ان دسیوں ہزار افغانوں کے انخلا کو روکنے کی دھمکی دے کر امریکا پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی ہے جو امریکی شہریت رکھتے ہیں یا ملک چھوڑ کر امریکا کی طرف جانا چاہتے ہیں یا وہ گذشتہ برسوں میں امریکی افواج کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔

مال اور ہتھیار

جہاں تک نورزئی کی رہائی کے لیے طالبان کی "مایوسی" کی وجہ ہے یہ ہے کہ نورزئی کی گرفتاری سے قبل وہ اپنی منشیات کی تجارت، خاص طور پر افیون اور ہیروئن کے وسائل کی وجہ سے طالبان کو مالی امداد اور اسلحہ فراہم کرتا تھا۔ نیو یارک میں 2005 میں منشیات کی سمگلنگ کے الزام میں، اسے گرفتار کیا گیا اور 2009 سے اب تک دو عمر قید کی سزائیں کاٹ رہا ہے۔

جہاں تک امریکی انجینیر کا تعلق ہے تو وہ امریکی بحریہ میں ایک سابق فوجی ہیں، جنہیں جنوری 2020 میں اس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ افغانستان میں ترقیاتی منصوبوں پر کام کر رہے تھے۔

بلیک میلنگ

اسٹیو بروکنگ جنہوں نے حال ہی میں افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن کے خصوصی مشیر کے طور پر خدمات انجام دیں نے تحریک طالبان کے مطالبات کو "بلیک میلنگ" قرار دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ طالبان نے کھلے عام واشنگٹن سے کہا تھا کہ جب تک منشیات فروش کو رہا نہیں کیا جاتا وہ فریچ کو رہا نہیں کریں گے۔

تاہم امریکی محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار نے اس منظر نامے کو غلط سمجھا اور مزید تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کیا۔

قابل ذکر ہے کہ طالبان نے اگست کے اواخر میں اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد وعدہ کیا تھا کہ وہ ملک میں منشیات کی صنعت کو ختم کر دیں گے، جس کا تخمینہ اربوں ڈالر لگایا جاتا ہے۔منشیات کا کاروبار دنیا بھر میں افیون کی پیداوار کا 85 فیصد حصہ بنتی ہے۔ مگر طالبان ابھی تک اس مکروہ دھندے کو روکنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔

افغانستان میں امریکی موجودگی کے 20 سال کے دوران طالبان نے اپنی شورش کے لیے منشیات کی تجارت کا استعمال کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں