یوکرین کا طیارہ مار گرائے جانے کی دوسری برسی ، جواد ظریف کی اِفشا آڈیو زیر گردش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

آج ہفتے کے روز ایرانی پاسداران انقلاب کے میزائلوں کے ذریعے یوکرین کے مسافر طیارے کے گرائے جانے کی دوسری برسی منائی جا رہی ہے۔

ایک طرف طیارے میں سوار 176 مسافروں کے خاندان ابھی تک مجرموں کے تعاقب اور زر تلافی کی ادائیگی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ دوسری جانب سوشل میڈیا پر متعدد صارفین سابق ایرانی وزیر خارجہ کی افشا ہونے والی ایک سابقہ آڈیو ریکارڈنگ کی یاد تازہ کر رہے ہیں۔ جواد ظریف نے اس آڈیو میں انکشاف کیا کہ اس حادثے کے ابتدائی دنوں میں تمام ایرانی ذمے داران کو اس بات کا علم تھا کہ طیارے سے پاسداران انقلاب کے داغے گئے میزائل ٹکرائے تھے۔

گذشتہ برس کئی مقامی اور عالمی ذرائع ابلاغ نے مذکورہ آڈیو ٹیپ جاری کی تھی۔ اس آڈیو میں جواد ظریف نے واضح طور پر کہا کہ "ان لوگوں نے بدھ 8 جنوری کی صبح طیارہ مار گرایا اور میں جمعے کی دوپہر اس ہنگامی اجلاس میں شرکت کے لیے چلا گیا جو قومی سلامتی کونسل نے بلایا تھا"۔

آڈیو میں جواد ظریف مزید کہتے ہیں کہ "خدا کی قسم ان لوگوں نے مجھے دھمکیاں دیں گویا کہ میں نے کوئی کفر بول دیا ہو (کہ پوری دنیا مل کر کہہ رہی ہے کہ طیارہ میزائلوں کے ذریعے گرایا گیا) ... پھر انہوں نے مجھ سے کہا کہ جاؤ جاؤ اور اب ایک ٹویٹ لکھو جس میں پوری کہانی کا انکار کرو ..."۔

ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ "خدا کی قسم یہ سب لوگ بدھ کی دوپہر سے ہی جانتے تھے کہ طیارہ میزائلوں کے ذریعے گرایا گیا !"۔

یاد رہے کہ جواد ظریف کی اس تصدیق کے باوجود ایران نے تین دن سے زیادہ گزر جانے کے بعد پاسداران انقلاب کے ذمے دار ہونے کا اعلان کیا۔ حادثے کے کئی ماہ بعد تہران نے پاسداران انقلاب کے 10 چھوٹے ارکان کے خلاف عدالتی کارروائی کی۔ اس پر طیارے میں موت کا شکار ہونے والے مسافروں کے اہل خانہ کی جانب سے کڑی تنقید کی گئی۔ ان کا مطالبہ تھا کہ پاسداران انقلاب کے سینئر ذمے داران کو عدالت کے کٹہرے میں لایا جائے۔

مارچ 2021ء میں جاری ایک رپورٹ میں ایرانی شہری ہوابازی کے ادارے نے کہا کہ اس کے زیر انتظام فضائی دفاعی نظام اُس وقت ہائی الرٹ تھا کیوں کہ امریکا کے حملے کا اندیشہ تھا۔

اس اندوہ ناک واقعے میں طیارے میں سوار 176 مسافر ہلاک ہو گئے۔ ان میں زیادہ تر ایرانی تھے جو کینیڈا، برطانیہ اور یوکرین کی شہریت رکھتے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں