جوہری ایران

دہشت گرد نظام پر پابندیوں میں نرمی کی کوشش شرم ناک ہے: امریکی سینیٹر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکا میں ریپبلکن سینیٹر بل ہیگرٹی نے صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اس کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ تہران نواز عراقی ملیشیاؤں کی جانب سے امریکی افواج پر حملے جاری رہنے کے باوجود امریکی انتظامیہ نے ایران کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ اور تہران پر پابندیوں میں کمی لانے پر کام جاری رکھا ہوا ہے۔

ٹویٹر پر اپنی ٹویٹ میں ہیگرٹی کا کہنا تھا کہ "یہ بہت خراب بات ہے کہ بائیڈن اوباما کے ایران کے ساتھ خطرناک جوہری معاہدے کو بحال کرنے کی بات چیت جاری رکھی ہے"۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ "بائیڈن پابندیاں کم کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ایرانی حکومتی نظام کو اربوں ڈالر مل جائیں گے باوجود یہ کہ ایریانی دہشت گرد نظام اپنے ایجنٹوں کے ذریعے مشرق وسطی میں امریکی افواج پر حملوں کی سپورٹ کر رہا ہے۔ یہ شرم ناک امر ہے!"

اس سے قبل امریکی اخبار Washington Free Beacon نے انکشاف کیا تھا کہ 2021ء میں ایران کے تیل کی غیر قانونی کھیپوں کے تناسب میں 40% کا اضافہ ہوا۔ ایرانی خام تیل پر شدید پابندیوں کے باوجود چین اور شام اس کے سب سے بڑے درآمد کنندہ رہے۔

واضح رہے کہ 2020ء سے 2021ء تک ایران کے تیل کی برآمد میں 12.3 کروڑ بیرل (40%) کا اضافہ ہوا۔ یہ بات United Against Nuclear Iran تنظیم نے بتائی۔ یہ تنظیم ایران کے تیل کے غیر قانونی ٹینکروں کا قریب سے جائزہ لیتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں