امریکیوں پر حملے کی صورت میں ایران کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی: واشنگٹن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

وائٹ ہاؤس نے اتوار کو خبردار کیا ہے کہ اگر ایران نے کسی بھی امریکی پر حملہ کیا تو اسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ دوسری طرف ایران نے 52 امریکیوں پر حال ہی میں 2020 کے ڈرون حملے میں قاسم سلیمانی کی ہلاکت پر تہران کی جانب سے پابندیاں عائد کی گئی تھیں۔

امریکی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے ایک بیان میں کہا کہ ’’ہم ایران کے کسی بھی حملے کو روکنے اور جواب دینے کے لیے اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ اگر ایران ہمارے کسی بھی شہری پر حملہ کرتا ہے، جس میں کل نامزد 52 افراد میں سے کوئی بھی شامل ہے تو وہ سنگین نتائج کا سامنا کرنے لیے تیار رہے۔"

سلیوان نے کسی بھی ایرانی اشتعال انگیزی کا جواب دینے کے لیے واشنگٹن کے عزم پر زور دیتے ہوئے مزید کہا کہ "ہم دنیا میں کہیں بھی اپنے شہریوں کے دفاع کے لیے ایران کے خلاف کارروائی کریں گے۔"

انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگر ایران کسی امریکی شہری پر حملہ کرتا ہے تو ہم اتحادیوں اور شراکت داروں کے تعاون سے اسے روکیں گے۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب ایران نے سلیمانی کی ہلاکت پر درجنوں دیگر امریکیوں پر پابندیاں عائد کی تھیں جن میں سے اکثر امریکی فوج سے ہیں۔

ایران کی وزارت خارجہ نے کہا کہ تہران نے 52 امریکیوں پر "دہشت گردی" اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام لگا کر پابندیاں عائد کی ہیں۔

یہ اقدام ایرانی حکام کو اجازت دیتا ہے کہ وہ ملک میں ان امریکیوں کے کسی بھی قسم کے اثاثے ضبط کر لیں، لیکن ایسے اثاثوں کی ظاہری عدم موجودگی کا مطلب ہے کہ ان کے علامتی ہونے کا امکان ہے۔

سلیمانی جو ایرانی پاسداران انقلاب کی غیر ملکی شاخ قدس فورس کے کمانڈر تھے کو 3 جنوری 2020 کو اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر عراق میں ایک ڈرون حملے میں مار دیا گیا تھا

ایرانی پابندیوں کی فہرست میں امریکی جنرل مارک ملی، چیئرمین آف جوائنٹ چیفس آف اسٹاف، وائٹ ہاؤس کے سابق قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ اوبرائن شامل ہیں۔

ایک سال قبل اسی طرح کے اقدام میں ایران نے ٹرمپ اور کئی سینیر امریکی حکام پر پابندیاں عائد کی تھیں جنہیں اس نے "دہشت گردی اور انسانی حقوق کے خلاف" کارروائیوں کا مرتکب قرار دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں