جی سی سی کی قیادت چینی حکام سے تبادلہ خیال کے لیے بیجنگ میں!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

خلیجی عرب حکام دنیا کی دوسری بڑی معیشت چین کے رہ نماؤں کے ساتھ ملاقات کے لیے بیجنگ کا دورہ کر رہے ہیں۔چین خلیجی عرب ممالک کے تیل کا سرکردہ صارف اور غیرملکی سرمایہ کاری کا ایک اہم ذریعہ ہے۔

خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر نایف الحجرف نے ایک بیان میں خلیج چین تعلقات کو مستحکم کرنے کی اہمیت پرزوردیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس دورے سے مشترکہ مفادات کے مختلف شعبوں سے متعلق امور پرتبادلہ خیال کرنے کا موقع ملے گا۔ان میں بیجنگ میں 2004ء میں طے شدہ اقتصادی معاہدہ اورسنہ 2010ء میں دست خط شدہ مفاہمتی یادداشت شامل ہیں۔

الحجرف نے یہ بھی کہا کہ یہ دورہ مختلف شعبوں میں خلیج،چین تعاون کا جائزہ لینے ،باہمی دوستی اور تعاون کو آگے بڑھانے اور مضبوط بنانے کے موقع کی نمائندگی کرتا ہے۔

چینی وزارت خارجہ نے پیر کو ایک بیان میں اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ اس طرح کے دوروں سے دونوں فریقوں کے درمیان تعلقات مزید مستحکم ہوں گے۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ وین بِن نے روزانہ کی بریفنگ میں کہا کہ ’’چین کی معیشت مشرق اوسط کے تیل اور گیس پر بہت زیادہ انحصارکرتی ہے۔دونوں فریقوں نے اپنے بنیادی مفادات سے متعلق امورپر ایک دوسرے کو مضبوط حمایت فراہم کی ہے اورمختلف شعبوں میں مفید اور نتیجہ خیزعملی تعاون کو فروغ دیا ہے‘‘۔

چین اورامریکا مشرق اوسط میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے کے کے لیے ایک مسابقانہ دوڑ میں شریک ہیں۔اس خطے میں چینی کمپنیوں کو شاہراہوں کی تعمیر کے ٹھیکوں سے لے کر فوجی ڈرون تک اشیاء اورخدمات کی منڈیاں ملی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں