افغانستان وطالبان

طالبان وزیرخارجہ کی ایران میں احمدشاہ مسعود کےبیٹے اور اسماعیل خان سے ملاقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

طالبان کے وزیرخارجہ نے اسی اختتام ہفتہ پرایران میں افغان مزاحمتی رہ نما احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود سے بات چیت کی ہے اورانھیں یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ اگر وہ وطن واپس آتے ہیں تو ان کی سلامتی کی ضمانت دی جائے گی۔

ملّا امیرخان متقی نے سوموار کو ایک بیان میں اس ملاقات کی تصدیق کی ہے۔سرکاری ذرائع ابلاغ کی جانب سے پیر کو ٹویٹر پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں طالبان کے وزیرخارجہ امیرخان متقی نے کہا ہے کہ انھوں نے صوبہ ہرات کے جنگجو کمانڈر اسماعیل خان سے بھی ملاقات کی ہے۔وہ بھی طالبان کے کنٹرول کے بعد ملک چھوڑ کرچلے گئے تھے۔

طالبان نے ایرانی حکام کے ساتھ مذاکرات کے لیے ملّاامیر خان متقی کی تہران روانگی کا اعلان توکیا تھا لیکن جلاوطن رہنماؤں سے ملاقاتوں کے کسی منصوبے کا کوئی ذکر نہیں کیا تھا۔

ملّا متقی نے ویڈیو میں کہا کہ ’’ہم نے کمانڈراسماعیل خان، احمد مسعود اور ایران میں دیگرافغانوں سے ملاقات کی اور انھیں یقین دلایا کہ کوئی بھی شخص افغانستان آ سکتا ہے اور کسی قسم کے خدشات کے بغیررہ سکتا ہے۔یہ سب کا گھر ہےاور ہم کسی کے لیے عدم تحفظ یا دیگر مسائل پیدا نہیں کرتے ہیں۔ ہرکوئی آزادانہ طورپرآ سکتا ہے اوریہاں رہ سکتا ہے‘‘۔

واضح رہے کہ وادیِ پنج شیر1980ء کی دہائی میں سوویت افواج اور1990 کی دہائی کے آخر میں طالبان کے خلاف مزاحمت کا مقام ہونے کی وجہ سے مشہور ہے۔اس کی سب سے قابل احترام شخصیت کمانڈر احمد شاہ مسعود ہی مانے جاتے ہیں۔ انھیں ’’پنج شیرکا شیر‘‘کہا جاتا ہے۔انھیں 2001 میں القاعدہ نے گیارہ ستمبر کے حملوں سے دو روز قبل ایک بم دھماکے میں قتل کر دیا تھا۔

طالبان کے کابل پر گذشتہ سال اگست میں دوبارہ قبضے کے بعد ان کے بیٹے احمد مسعود نےعلم بغاوت بلند کیا تھا۔ان کی قیادت میں قومی مزاحمتی محاذ تشکیل پایا تھا۔اس نے کئی بارطالبان کی مذمت کی ہے اوران کی امارت اسلامی کو ’’ناجائز حکومت‘‘ قرار دیا ہے لیکن ایسا نہیں لگتا کہ اس نے کوئی جسمانی حملہ کیا ہے۔

احمد مسعود کے زیرقیادت وادیِ پنج شیر کے جنگجوؤں نے ستمبرمیں طالبان کے افغانستان پر قبضے کے خلاف آخری مزاحمت کی تھی۔اس کے چند ہفتوں کے بعد انھوں نے طالبان فوجیوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیے تھے۔

طالبان نے اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنے تمام مخالفین اور ناقدین کوعام معافی دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن انسانی حقوق کی تنظیموں کاکہنا ہے کہ اس کے بعد سے اب تک سابق حکومت سے وابستہ کم سے کم 100 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

افغان یونیورسٹی کے ایک ممتاز پروفیسراور طالبان کے کھلے ناقد کو ہفتے کے آخر میں کابل میں ملک کے نئے حکمرانوں کے خلاف ٹیلی ویژن پر بات کرنے کے بعد گرفتار کرلیا گیا تھا۔سخت گیراسلام پسندوں نے اختلاف رائے کےخلاف کریک ڈاؤن کیا ہے،خواتین کے اپنے حقوق کی بازیابی کے لیےمظاہروں کوزبردستی منتشرکیا ہے اور متعدد افغان صحافیوں کو مختصر طورپرحراست میں لے لیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں