کوئی ملک طاقت کے ذریعے دوسرے ملک کی سرحدیں تبدیل نہیں کرسکتا:امریکی نائب وزیرخارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

جنیوا میں امریکا اورروس کے درمیان مذاکرات کسی اہم پیش رفت کا اعلان کیے بغیر ختم ہوگئے ہیں۔امریکا کی نائب وزیرخارجہ وینڈی شرمین اور ان کے روسی ہم منصب سرگئی ریابکوف کے درمیان سوموار کو سوئس شہرمیں کوئی ساڑھے سات گھنٹے تک بات چیت اور مشاورت جاری رہی ہے۔

اس ملاقات میں ماسکو کی یوکرین پر حملے کی دھمکی پر کشیدگی بڑھنے کے بعد فوجی حکام بھی موجود تھے۔معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم (نیٹو)کی قیادت میں واشنگٹن اور یورپ نے خبردارکیا ہے کہ اگر روس نے اس دھمکی پرعمل کیا تو اس کے شدید منفی نتائج برآمد ہوں گے۔ اس وقت دسیوں ہزار روسی فوجی یوکرین کی سرحد پرتعینات ہیں مگر ماسکو کا دعویٰ ہے کہ اس کا یوکرین پر فوجی چڑھائی کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

امریکا کی نائب وزیرخارجہ وینڈی شرمین نے پیرکے اجلاس کے بعد ایک کال میں کہا کہ ’’کوئی ملک طاقت کے ذریعے کسی دوسرے ملک کی سرحدوں کو تبدیل کرسکتا ہے اور نہ ہی اس کی خارجہ پالیسی کی شرائط طے کر سکتا ہے اور نہ ہی کسی دوسرے ملک کو اپنے اتحادوں کے انتخاب سے منع کرسکتا ہے‘‘۔

اگرچہ امریکی حکام نے کہا ہے کہ جنیوا میں ہونے والے مذاکرات ’’تزویراتی سکیورٹی ڈائیلاگ‘‘کا تسلسل ہیں۔یہ عمل گذشتہ موسم گرما میں امریکی صدرجو بائیڈن اور ان کے روسی ہم منصب ولادی میرپوتین کے درمیان شروع ہوا تھا لیکن حالیہ بات چیت بنیادی طور پر یوکرین کے بحران پرمرکوز تھی۔

یہ پوچھے جانے پر کہ کیا روس نے یوکرین کے ساتھ کشیدگی بڑھانے کے منصوبے کا کوئی جواب دیا ہے؟ شرمین نے کہا:’’مجھے نہیں لگتا کہ ہم اس کا جواب جانتے ہیں۔ ہم نے یہ بات بالکل واضح کردی ہے کہ تعمیری، نتیجہ خیزاور کامیاب سفارت کاری کےبغیرکچھ ہونا بہت مشکل ہے‘‘۔

ان مذاکرات سے قبل روس نے مطالبات کی ایک فہرست جاری کی تھی جس میں اس بات کی ضمانت طلب کی گئی تھی کہ یوکرین کو نیٹو میں شامل نہیں کیا جائے گا لیکن امریکا نے سخت ردعمل جاری کیا اور وزیرخارجہ انٹونی بلنکن نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ روس کے کچھ مطالبات مطلق ’نان اسٹارٹرز‘‘ہیں۔یعنی ان پر کچھ نہیں ہوسکتا ہے۔

اس کے علاوہ نیٹو نے بھی یہ کہا کہ خودمختار فیصلے کرنا ہر ملک پر منحصر ہے۔اس کے باوجود بلنکن نے کہا کہ آگے بڑھنے کا بہترین راستہ بات چیت اور بحران کا سفارتی حل ہے۔

وینڈی شرمین نے بتایا کہ ’’ہم نے مذاکرات میں بہت سے خیالات پیش کیے ہیں جہاں ہمارے دونوں ممالک باہمی سلامتی کے مفاد میں اقدامات کرسکتے ہیں،یہ ہمارے مفاد میں ہوں گے اور تزویراتی استحکام کو بہتر بنائیں گے‘‘۔

امریکا نے روس کے خدشات کو کم کرنے کے لیے بعض تجاویزپیش کی ہیں۔ان میں مشرقی یورپ میں روسی سرحدوں کے قریب امریکی اور نیٹو فوجی مشقوں کو محدود کرنا شامل ہے۔امریکی حکام نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ یوکرین میں مخصوص میزائل نظام کی موجودگی پر بھی تبادلہ خیال کیا جاسکتا ہے۔

واضح رہے کہ بائیڈن انتظامیہ نے اب تک روس اورچین کی جانب سے امریکا کی قومی سلامتی کے مفادات کو درپیش سب سے اہم مسائل وخطرات پرتوجہ مرکوز کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں