.

کابل سے امریکی انخلا کے دوران بچھڑنے والا بچہ خاندان کو واپس مل گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پانچ ماہ قبل افغانستان میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد اپنے گھرانے سے بچھڑ جانے والا شیر خوار بچہ اپنے دادا کی آغوش میں پہنچ گیا۔ اس عرصے میں یہ بچہ ایک ٹیکسی ڈرائیور کے گھر میں رہا۔ یہ بچہ ڈرائیور کو کابل کے ہوائی اڈے پر تنہا ملا تھا۔

یہ واقعہ 19 اگست کو کابل ہوائی اڈے پر شدید ہجوم کے درمیان پیش آیا تھا جب افغان شہری مرزا علی احمدی نے اپنے (دو ماہ کے) بیٹے سہیل کو حفاظت کی نیت سے ایک غیر ملکی فوجی کے حوالے کر دیا۔ اس امید کے ساتھ کہ وہ چند منٹوں کے بعد پھر سے اپنے بیٹے سے جا ملے گا۔

اس کے بعد کیا ہوا یہ واضح نہیں تاہم 29 سالہ ٹیکسی ڈرائیور حمید صافی نے واقعے کے اگلے روز اس بچے کو کابل ہوائی اڈے کی زمین پر تنہا روتا ہوا پایا۔

دوسری جانب احمدی جو کابل میں امریکی سفارت خانے میں کام کرتا تھا اس نے تین روز تک ہوائی اڈے پر اپنے بچے کی تلاش میں گزار دیے۔ آخر کار اس نے چوتھے روز اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ اس طیارے میں سوار ہونے کا فیصلہ کر لیا جو افغان شہریوں کو لے کر بیرون ملک جا رہا تھا۔

حمید صافی کو سہیل کا نام معلوم نہ تھا لہذا اس نے بچے کا نام محمد رکھ دیا۔ حمید کی تین بچیاں اس بچے کے ساتھ کھیل کر وقت گزارنے لگیں۔ حمید کے مطابق اس نے بچے کے والدین کو تلاش کرنے کی بہت کوشش کی تاہم کوئی کامیابی نہ ہوئی۔

چند روز قبل افغان پولیس اور سوشل میڈیا کی وساطت سے کابل میں اس بچے کے چند رشتے داروں کا پتہ چل گیا اور آخر کار بچے کو اس کے دادا کے حوالے کر دیا گیا۔ کئی ماہ کے بعد پوتے کے مل جانے پر دادا کی مسرت قابل دید تھی۔

اب اگلا مرحلہ سہیل کو امریکا میں اس کے والدین تک پہنچانے کا ہے۔ اس وقت تک سہیل اپنی خالہ کے پاس رہے گا۔

سہیل کے والد احمدی نے امریکا سے ٹیلی فون پر بتایا کہ "گذشتہ پانچ ماہ سے ہماری حالت بہت خراب تھی لیکن اب اپنے بچے کے مل جانے کی خبر سن کر ہمیں بے حد خوشی ہے کہ اللہ تعالی نے ہمارے بچے کو واپس لوٹا دیا"

مقبول خبریں اہم خبریں