.

سعودی عرب:نئے قانون کے تحت ہراسیت کے کیس میں سزا یافتہ شخص کی پہلی مرتبہ تشہیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں انسداد ہراسیت کے ترمیمی قانون کے تحت جنسی ہراسانی کے کیس میں سزا یافتہ شخص کی اخبار میں پہلی مرتبہ تشہیرکی گئی ہے۔

مدینہ منورہ میں ایک عدالت نے سعودی شہری یاسرمسلم العراوی کی عوامی شناخت کا حکم دیا تھا۔اس کے بعد اس کا نام نجی ملکیت کےاخبارعکاظ میں شائع کیا گیا ہے۔اس کو عدالت نے آٹھ ماہ قید اورپانچ ہزارریال (1300 ڈالر) جرمانہ عاید کرنے کی سزا سنائی ہے۔

سعودی عرب میں عدالتوں نے 2018ء میں جنسی ہراسیت کے مرتکب افراد پرجرمانہ عاید کرنا شروع کیا تھا۔اسی سال سعودی مملکت نے خواتین کو ڈرائیونگ کی اجازت دینے سمیت وسیع سماجی اصلاحات کا آغازکیا تھا۔

عکاظ اور سرکاری ملکیتی ٹی وی چینل الاخباریہ نے بتایا ہے کہ یہ جنسی ہراسیت کے قانون میں ترمیم کا پہلا اطلاق ہے۔ترمیمی قانون عدالتوں کو مقامی پریس میں فیصلے کی اشاعت کا حکم دینے کی اجازت دیتا ہے۔

عکاظ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ العراوی کومتاثرہ فریق کو’’پیچھے سے چھونے، زبانی حملہ کرنے اور ہراساں کرنے‘‘کا مرتکب پایا گیا ہے۔

2017ء میں شہزادہ محمد بن سلمان کے سعودی عرب کا ولی عہد بننے کے بعد سے خواتین کو کئی ایک نئی آزادیاں دی گئی ہیں۔ان میں ڈرائیونگ، اکیلے سفر یا مردوں کے ساتھ کھیلوں اور تفریحی تقریبات میں شرکت شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں