.
ایران جوہری معاہدہ

ویانامذاکرات:ایران اورامریکا میں پابندیوں کے خاتمے اور جوہری قدغنوں پراختلافات برقرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مغربی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اورامریکا ویانا میں جاری بالواسطہ جوہری مذاکرات میں بنیادی امور پربہت کم لچک کا مظاہرہ کررہے ہیں۔اس سے یہ سوال جنم لے رہا ہے کہ کیا 2015 کے جوہری معاہدے کی تجدید کے لیےجلد ہی ایسا کوئی سمجھوتا طے پاسکتا ہے جس سے مشرق اوسط میں وسیع تر جنگ کے خدشات دور ہوسکتے ہیں۔

ویانا میں گذشتہ سال اپریل سے اب تک امریکا اورایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کے آٹھ دور ہوچکے ہیں۔ سب سے اختلافی نکات تہران پر پابندیاں اٹھانے کی رفتار اور ایران کی جانب سے جوہری سمجھوتے کی پاسداری ہے۔ان کے علاوہ ایران کی جانب سے امریکا سے مزید تعزیری اقدامات نہ کرنے کی ضمانت کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

جوہری معاہدے نےایران کی یورینیم افزودگی کی سرگرمی کو محدود کردیا تھا تاکہ اس کے لیے جوہری ہتھیارکی تیاری مشکل ہوجائے جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ جوہری بم تیارہی نہیں کرنا چاہتا ہے۔

سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ مئی 2018 میں جوہری معاہدے سے یک طرفہ طورپردستبردار ہوگئے تھے۔انھوں نے کہا تھا کہ یہ ایران کی جوہری سرگرمیوں، بیلسٹک میزائل پروگرام اور علاقائی اثرورسوخ کو روک لگانے میں ناکام رہا ہے۔اس کے بعد اسی سال نومبر میں انھوں نے ایران کے خلاف دوبارہ سخت اقتصادی پابندیاں عاید کردی تھیں۔

ایک سال کےانتظارکے بعد ایران نے سابق صدرٹرمپ کے دباؤ کا جواب دیتے ہوئے جوہری معاہدے کی شرائط کی بتدریج خلاف ورزی شروع کردی تھی۔اس نے زیادہ مصفا افزودہ یورینیم کا ذخیرہ اکٹھا کرنا شروع کردیا تھا۔اس کے علاوہ اپنی جوہری تنصیبات میں جدید سنٹری فیوجز شامل کی تھیں۔

مغربی حکام کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کو دوبارہ زندہ کرنے کا وقت ختم ہورہا ہے جبکہ ایرانی حکام اس بات کی تردید کرتے ہیں کہ ان پر وقت کا دباؤ ہے۔ان کاکہنا ہے کہ چین کو تیل کی فروخت کی بدولت ایران کی معیشت زندہ رہ سکتی ہے۔

’ضمانتوں کی ضرورت ‘

ایک سابق ایرانی عہدہ دارنے کہا کہ ایران کے حکمرانوں کو یقین ہے کہ ان کا سمجھوتانہ کرنے کا نقطہ نظر سودمند ثابت ہوگا جبکہ فرانس نے منگل کو کہا ہے کہ دسمبر کے آخر میں بات چیت میں کچھ پیش رفت کے باوجود ایران اورعالمی طاقتیں ابھی تک جوہری معاہدے کی بحالی سے بہت دور ہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ نے 4 جنوری کوکہا تھا کہ ’’مذاکرات کامرکزی نکتہ پابندیوں سے نجات کے لیے وہ جوہری اقدامات ہیں جو ایران معاہدے کی بحالی کی صورت میں کرے گا‘‘۔

ایران ٹرمپ دور میں عاید کردہ تمام پابندیوں کو فوری طور پر ختم کرنے پر زوردے رہا ہے۔ واشنگٹن نے کہا ہے کہ اگر ایران نے اس معاہدے کی تعمیل دوبارہ شروع کی تو وہ 2015 کے معاہدے سے مطابقت نہ رکھنے والی پابندیوں کو ختم کردے گا۔

ایک سینیرایرانی عہدہ دار کا کہنا ہے کہ امریکیوں کویقین دہانی کرانی چاہیے کہ مستقبل میں ایران پرکسی لیبل کے تحت کوئی نئی پابندیاں عاید نہیں کی جائیں گی۔اس کے علاوہ ہمیں اس بات کی ضمانت کی ضرورت ہے کہ امریکا دوبارہ اس معاہدے کو ترک نہیں کرے گا۔

تاہم دوسری جانب امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صدر جو بائیڈن ایسا کوئی وعدہ نہیں کرسکتے کہ امریکی حکومت اس معاہدے سے انحراف نہیں کرے گی کیونکہ جوہری معاہدہ ایک غیرپابند سیاسی مفاہمت ہے نہ کہ قانونی طور پر کوئی پابند معاہدہ ہے۔امریکیوں کے اس مؤقف تبصرہ کرتے ہوئے ایک ایرانی عہدہ دار نے کہا:’’یہ ان کا اندرونی مسئلہ ہے‘‘۔

ایرانی عہدہ دار کا کہنا تھا کہ امریکا اور تہران کے درمیان پابندیوں کے خاتمے کے نظام الاوقات پربھی اختلاف ہے۔ ایران کو پابندیوں کے خاتمے کی تصدیق کے لیے دو ہفتوں کی ضرورت ہےلیکن دوسرے فریق کا کہنا ہے کہ جہازوں پرتیل چڑھانے، اسے برآمد کرنے اور بنک کاری نظام کے ذریعے اس کی رقم منتقل کرنے کے لیے چند روزہی کافی ہوں گے۔

مذاکرات کے پس منظرمیں اسرائیل ایران کی جوہری تنصیبات کو تباہ کرنے کی دھمکیاں بھی دے رہا ہے،اس کے بارے میں وسیع پیمانے پریہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ مشرق اوسط کی واحد غیرعلانیہ جوہری طاقت ہے لیکن وہ ایران کو اپنے لیے وجودی خطرہ سمجھتا ہے۔

اسرائیل تہران کی جوہری صلاحیتوں پرقابو پانے میں سفارت کاری کوبے سود سمجھتا ہے اوراس کی ناکامی کی صورت میں ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کرنے کی دھمکیاں دیتا رہتاہے جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اگراس کی جوہری تنصیبات پر حملہ کیا گیا تووہ سخت جوابی کارروائی کرے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں