.

ایران:سیکڑوں اساتذہ کا ہوشرباافراطِ زراورتن خواہوں کے نئے اسکیلوں کے خلاف احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران بھر کے شہروں میں سیکڑوں اساتذہ نے اپنی تن خواہوں اور پنشنوں میں تبدیلیوں کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ ان کی تن خواہوں میں افراط زر کی ہوشربا شرح کے مقابلے میں کم اضافہ کیا گیا ہے۔

ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے اریب کی رپورٹ کے مطابق بحیرہ کیسپیئن کے ساحل پر واقع صوبہ گیلان میں قریباً 150 اساتذہ نے راشت شہر میں مارچ کیا جبکہ لہیجان میں احتجاجی ریلی میں صرف 70 اساتذہ شریک تھے۔

رپورٹ کے مطابق مظاہرین کا کہنا تھا کہ’’ اگرخردبردمیں کمی کی جاتی ہے تو ہمارے مسائل حل ہو جائیں گے‘‘ اور’’ہم نے صرف وعدے سنے ہیں، ہمیں انصاف نظر نہیں آیا‘‘۔وہ ایسے ہی الفاظ پر مبنی نعرے بازی کررہے تھے۔

خبررساں ادارے مہر کی رپورٹ کے مطابق ایران کے تیسرے سب سے بڑے شہراصفہان میں 300 کے قریب اساتذہ نے مظاہرہ کیا۔جنوب مغرب میں واقع صوبہ چہارمحل بختیاری میں بھی اساتذہ نے احتجاجی ریلی نکالی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمزپر شمال مشرق میں واقع شہر نیشاپور، مغرب میں کرمانشاہ اور جنوب مغرب میں واقع خرم شہر میں بھی اسی طرح کے مظاہرے دکھائے گئے ہیں۔ان کی تصاویر اور ویڈیوز پوسٹ کی گئی ہیں۔

ایرانی حکومت تجربے اور کارکردگی کی بنیاد پراساتذہ کا ایک نیا گریڈنگ نظام متعارف کرانا چاہتی ہے جبکہ مظاہرین اس کے نفاذ کے طریق کارکے مخالف ہیں۔ وہ یہ بھی مطالبہ کررہے ہیں کہ حکومت ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن کو حاضر سروس اساتذہ کی تن خواہوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے مزید اقدامات کرے۔

امریکا کی جانب سے 2018 سے عاید کردہ سخت اقتصادی پابندیوں کی زد میں آنے والے ایران میں افراط زر کی شرح 60 فی صد کے قریب پہنچ چکی ہے جس سے سرکاری شعبے کے ملازمین اور مقررہ ماہانہ آمدن والے دیگر افراد کے معیارزندگی پرشدید منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

ایران کے سب سے طاقتور سرکاری شعبوں میں سے ایک عدلیہ کے ملازمین نے گذشتہ اتوار کے روز حکومت کی جانب سے اپنی تنخواہوں میں اضافے سے انکار کے خلاف مظاہرے کیے تھے۔ایرانی عدلیہ کے ملازمین کے اس طرح کے مظاہروں کی کم ہی نظیرملتی۔

پیر کواٹارنی جنرل محمد جعفرمنتظری نے مظاہرین کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی دھمکی دی تھی۔قدامت پسند صدرابراہیم رئیسی نے ماضی میں عدلیہ کے سربراہ کی حیثیت سے اپنی ملازمت کے آخری ہفتوں میں ملازمین کی تن خواہوں میں اضافے کی تجویز پیش کی تھی لیکن ان کی قیادت میں نئی حکومت نے اس ضمن میں اپنا ارادہ بدل دیا ہے اور ملک کو درپیش معاشی مسائل کے پیش نظروہ تن خواہوں میں اضافے کو تیار نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں