.

ایران کا ٹھوس ایندھن والا سیٹلائٹ کیریئرراکٹ خلا میں بھیجنے کا ’’کامیاب ‘‘تجربہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی نیم فوجی سپاہ پاسداران انقلاب نے گذشتہ ہفتے سیٹلائٹ کا حامل ٹھوس ایندھن والا راکٹ خلا میں بھیجا ہے۔

ملک کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ایرنا نے جمعرات کو خبردی ہے کہ پاسداران انقلاب کے خلائی یونٹ کے سربراہ جنرل امیرعلی حاجی زادہ نے اس تجربہ کوکامیاب قراردیا ہے۔انھوں نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے جب ایران نے مائع ایندھن کے بجائے ٹھوس ایندھن والا راکٹ استعمال کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایران مزید خلائی منصوبوں میں ہلکے راکٹ انجن تیار کرے گا۔ایرانی جنرل کے مطابق سیٹلائٹ لے جانے والا یہ راکٹ دھات کے بجائے ایک مرکب مواد سے بنایا گیا تھا-اس کے بارے میں انھوں نے یہ دعویٰ بھی کیاکہ یہ ’’کم لاگت‘‘تھا۔

امیرعلی حاجی زادہ نے ایران میں مدارس کا مرکزقُم شہر میں علماء کے ایک گروپ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران ایرواسپیس اور سیٹلائٹ صنعت میں اپنے اہداف پرپختگی سے عمل پیرا ہے۔

تاہم، مرکب مواد کے حامل راکٹوں کی پیداواری لاگت عام طورپردھاتی راکٹ کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہے۔مرکب ایک راکٹ کو ہلکا بھی بناتا ہے تاکہ یہ ایک بھاری سیٹلائٹ یا پے لوڈ کو مدار میں لے جاسکے۔ سرکاری ٹی وی نے راکٹ چھوڑنے کی کوئی فوٹیج نہیں دکھائی ہے۔

سیٹلائٹ لے جانے والے راکٹ عام طور پر مائع ایندھن استعمال کرتے ہیں لیکن ٹھوس ایندھن والے راکٹوں کو موبائل لانچروں کے لیے ڈھالا جاسکتا ہے جو کسی بڑی سڑک یا ریل نظام پرکہیں بھی چلائے جا سکتے ہیں۔خالص ٹھوس ایندھن والے راکٹ زیادہ تر بیلسٹک میزائلوں کے نظام سے وابستہ ہوتے ہیں۔

گذشتہ ماہ ایران نے کہا تھا کہ اس نے سیٹلائٹ کیریئرکو راکٹ کے ساتھ خلا میں بھیجا ہے۔البتہ اس نے یہ نہیں بتایا تھا کہ آیا کوئی چیززمین کے مدار میں داخل ہوئی ہے یا نہیں۔

اس وقت امریکا کے محکمہ خارجہ نے کہا تھا کہ وہ ایران کے خلائی تجربات پر مشوش ہے۔وہ تہران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتا رہتا ہے اور اس کو بیلسٹک میزائلوں کے پھیلاؤ کا شاخسانہ قراردیتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں