.

حدیدہ بندرگاہ حوثیوں کے لیے جنگجوؤں اوربیلسٹک میزائلوں کی آمد کامرکز بن گیا:عرب اتحاد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کل بدھ کو یمن میں آئینی حکومت کے دفاع کے لیے کام کرنے والے عرب اتحاد نے اقوام متحدہ کے الحدیدہ کی بندرگاہ کا معائنہ کرنے کے اقدام کا خیرمقدم کیا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ یہ بندرگاہ حوثی ملیشیا کے ذریعے عسکری مقاصد کے لیے استعمال نہ کی جاسکے۔ عرب اتحاد نے اس بات پر زور دیا کہ حدیدہ کی بندرگاہ غیر ملکی جنگجوؤں اور بیلسٹک میزائلوں کی منزل بن چکی ہے۔

عرب اتحاد نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ غیر ملکی جنگجو داخل نہ ہوں اور ہتھیار حدیدہ تک پہنچ سکیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جب بندرگاہوں کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا سلسلہ جاری رہے گا اور حوثی بندرگاہوں کو اپنے مذموم جنگی مقاصد کےلیے استعمال کریں گے تو عرب اتحاد کو ان کے خلاف کارروائی کے لیے آگے بڑھنا پڑے گا۔

درایں اثنا یمن کے لیے اقوام متحدہ کے ایلچی ہانس گرنڈبرگ نےکل بدھ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سامنے ایک بیان میں کہا کہ الحدیدہ بندرگاہ کو حوثیوں کی جانب سے فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی تحقیقات جاری ہیں۔ انہوں نے بندرگاہ پر حوثیوں کے کنٹرول پر اپنی تشویش کا اظہار کیا کیونکہ اسی بندرگاہ سے چند روز قبل حوثی باغیوں نے متحدہ عرب امارات کا پرچم بردار ایک بحری جہاز اغوا کرلیا تھا۔

حدیدہ معاہدے کی حمایت میں اقوام متحدہ کے مشن نے یمنی شہر میں بندرگاہوں کی عسکری مقاصد کے لیے استعمال کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بندرگاہوں کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرنے پر گہری تشویش رکھتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں