سوڈان میں فوجی بغاوت مخالف مظاہرے میں سکیورٹی افسر ہلاک:سرکاری ٹی وی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں مظاہرین نے فوجی بغاوت مخالف احتجاجی ریلی میں ایک سکیورٹی افسر پرچاقو سے وارکیے ہیں جس سے وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے۔

جمعرات کو خرطوم کے مختلف حصوں سے جمع ہونے والے مظاہرین نے صدارتی محل کی جانب مارچ کیا ہے۔ اقوام متحدہ نے اسی ہفتے سوڈانی دھڑوں کے درمیان مذاکراتی عمل شروع کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اس کے باوجود مظاہرین نے احتجاج جاری رکھا ہوا ہے۔

اقوام متحدہ کی اس کوشش کا مقصد جنرل عبدالفتاح البرہان کی قیادت میں 25 اکتوبرکو حکومت کے خلاف برپا کی گئی فوجی بغاوت اور رواں ماہ کے اوائل میں سویلین وزیراعظم عبداللہ حمدوک کے استعفے سے پیدا شدہ بحران کو حل کرنے میں مدد دینا ہے۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ مظاہرین پہلے شہر کے مرکزمیں جمع ہوئے تھے اور فوجی قیادت کے خلاف نعرے بازی کررہے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی پوری طاقت کے ساتھ صدارتی محل کی طرف جا رہے ہیں۔

بعض لوگ جنرل عبدالفتاح البرہان کا نام لے کر ان کے خلاف نعرے بازی کررہے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ جنرل البرہان کو اسلام پسنداقتدار میں لائے ہیں جن کا گذشتہ تین عشروں کے دوران میں سابق صدر عمرالبشیر کے دور میں اثرورسوخ رہا ہے۔عینی شاہدین کے مطابق سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشرکرنے کے لیے اشک آورگیس کی گولیاں چلائی ہیں۔

جمہوریت کے حامی کارکنان 25 اکتوبرکواقتدار پر فوجی قبضے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ سابق مطلق العنان صدرعمرالبشیر کی معزولی کے بعد شروع ہونے والاسویلین کواقتدار کی منتقلی کا عمل پٹڑی سے اتاردیا گیا ہے۔

طبّی عملہ کے مطابق فوجی حکومت نے ان مظاہروں کا مقابلہ ایک خونیں کریک ڈاؤن سے کیا ہے اور اس میں 63 افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں