.
یمن اور حوثی

یمن میں عرب اتحاد کے حملے؛ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے 340 سے زیادہ ارکان ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں عرب اتحاد کے فضائی حملوں میں ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے 340 سے زیادہ ارکان ہلاک ہوگئے ہیں۔

عرب اتحاد نے صوبہ مآرب میں حوثی ملیشیا کے خلاف گذشتہ 24 گھنٹے میں 33 فوجی کارروائیاں کی ہیں۔ان میں 190 سے زیادہ ملیشیا ارکان ہلاک ہوگئے ہیں اور ان کی 21 فوجی گاڑیاں تباہ ہوگئی ہیں۔

سعودی پریس ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اتحاد نے یمن کے صوبے البیضاء میں بھی 27 اہدافی فضائی کارروائیاں کی ہیں۔ان میں ایران کے حمایت یافتہ 150 حوثی جنگجوؤں کوہلاک اوران کی 16 فوجی گاڑیاں تباہ کردی گئی ہیں۔

عرب اتحاد نے ایک سرکاری بیان میں ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کوشہری تنصیبات پرحملوں کی مسلسل کوششوں کے خلاف خبردار کیا ہے اورکہا ہے کہ یمن میں فضائی حملوں سے ’’شہریوں کو نشانہ بنانے کی کوششوں کو ناکام بنا دیا گیا ہے‘‘۔

عرب اتحاد نے مآرب اور البیضاء میں فضائی حملوں سے قبل یمنی مسافروں سے درخواست کی تھی کہ وہ اگلے نوٹس تک دونوں گورنریوں سے حریب، آئن، بیہان اور اوسیلان کی گورنریوں کی طرف جانے والی شاہراہوں کا استعمال نہ کریں کیونکہ ان پر تمام نقل و حرکت حملوں کی زد میں آسکتی ہے۔

حوثی ملیشیا نے 2021 میں یمن سے سعودی عرب کے شہروں اور علاقوں پر سرحد پار سے بیسیوں ڈرون اور میزائل داغے ہیں۔ستمبر2021 سے حوثیوں نے مآرب کے صوبائی دارالحکومت پر قبضہ کی کوششیں بھی تیز کررکھی ہیں۔

حوثیوں نے تین جنوری کو متحدہ عرب امارات کے پرچم بردار بحری جہاز پر قبضہ کر لیا تھا۔اس کے بارے میں اتحاد کا کہنا تھا کہ وہ طبی سامان لے کر جا رہا تھا۔دریں اثناء حوثی ملیشیا کے ترجمان نے اقوام متحدہ کی جانب سے یواے ای کا بحری جہاز چھوڑنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

عرب اتحاد نے حالیہ مہینوں سے یمن میں حوثیوں کے جائز فوجی اہداف کے خلاف حملے تیز کررکھے ہیں اور شہریوں کو خبردار کیاہے کہ وہ پہلے سے نشانہ بنائے گئے مقامات کے قریب نہ جائیں اور نہ ہی کسی جگہ اکٹھے ہوں۔ اتحاد نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ کارروائیاں بین الاقوامی انسانی قوانین کے مطابق کی جارہی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں