بائیڈن نے ٹیکساس میں لوگوں کویرغمال بنانے کی کارروائی کو’دہشت گردی‘ قراردے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکی صدر جوبائیڈن نے ریاست ٹیکساس میں یہود کے ایک کنیسہ میں لوگوں یرغمال بنانے کے واقعے کو دہشت گردی قرار دے دیا ہے۔امریکی سکیورٹی فورسز نے کنیسہ میں دھاوا بول کریرغمالیوں کو رہا کرالیا ہے اور انھیں یرغمال بنانے والے ملزم کو ہلاک کردیا ہے۔صدر بائیڈن نے کہا ہے کہ اس نے اپنے ہتھیارکسی بازار ہی سے حاصل کیے تھے۔

انھوں نے فلاڈیلفیا میں خاتونِ اوّل جل بائیڈن کے ساتھ دورے کے موقع پر کہا کہ ٹیکساس کے شہر کولی ویل میں لوگوں کو یرغمال بنانے کا واقعہ ’’دہشت گردی کی کارروائی تھی۔یہ دہشت گردی کی کارروائی تھی‘‘۔ وہ شہری حقوق کے علمبردار مقتول رہنما مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کے ورثے کے احترام میں شہر کے دورے میں ایک فوڈ بنک سے گاجریں اور سیب پیک کررہے تھے۔

بائیڈن نے بندوق کے تشدد کوروکنے کے لیے درکار اقدامات کی اہمیت پرزوردیا ہے۔انھوں نے کہا کہ پس منظر کی جانچ پڑتال کا خیال انتہائی اہم ہے لیکن اگرکوئی سڑکوں پر کسی اور سے کچھ بھی خرید کررہا ہے تو آپ اس طرح کی کوئی چیز نہیں روک سکتے۔

ایف بی آئی کی ریسکیو ٹیم نے ہفتے کی رات کولی ویل میں اجتماع بیتھ اسرائیل کے نام سے کنیسہ پردھاوا بول دیا تھا جس کے نتیجے میں بندوق بردارکا پولیس کے ساتھ 10 گھنٹے تک جاری رہنے والا تعطل ختم ہوگیا تھا۔ مشتبہ ملزم یہود کی کنیسہ میں سبت (ہفتے)کی عبادت کے دوران میں دخل انداز ہوا تھا اور اس نے ربی اور تین دیگر افراد کو یرغمال بنا لیا تھا۔

اس نے ایک یرغمالی کو چھے گھنٹے تک حراست میں رکھنے کے بعد کوئی نقصان پہنچائے بغیررہا کردیا تھا اور باقی تین کو بعد میں ایف بی آئی کی ٹیم نے بہ حفاظت رہا کرالیا ہے اور ملزم کو ہلاک کردیا ہے۔

ہفتے کی شب جائے وقوعہ پرموجود صحافیوں نے بتایا کہ انھوں نے فورٹ ورتھ سے قریباً 16میل (26 کلومیٹر) شمال مشرق میں واقع کولی ویل میں ریفارم یہودی کنیسہ میں دھماکوں اور فائرنگ کی آواز سنی تھی۔

ادھربرطانیہ کے دفترخارجہ نے اتوار کے روز ایک بیان میں ٹیکساس میں ایک برطانوی شخص کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔اس نے یہ بیان کنیسہ میں بندوق بردار کے بارے میں میڈیا کی پوچھ تاچھ کے جواب میں جاری کیا ہے۔

کولی ویل کے محکمہ پولیس کی انسداددہشت گردی ٹیموں نے یوم سبت سروس کے دوران میں صبح قریباً 10 بج کر41 منٹ پر ہنگامی کالز شروع ہونے کے بعد کنیسہ کو جواب دیا۔وہاں سے سروس آن لائن نشر کی جارہی تھی۔ایف بی آئی کے مذاکرات کاروں نے جلد ہی اس شخص سے رابطہ قائم کرلیا تھا۔اس نے مطالبہ کیا تھا کہ وہ امریکا کی وفاقی جیل میں قید پاکستانی خاتون ڈاکٹرعافیہ صدیقی سے بات کرنا چاہتا ہے۔

اس شخص کو سروس کے فیس بک پر لائیواسٹریم کے دوران میں یک طرفہ فون پر بات چیت کرتے سناگیا تھا۔ فورٹ ورتھ سٹارٹیلی گرام کی رپورٹ کے مطابق اس شخص کو مذہب اوراس کی مبیّنہ بہن کے بارے میں بڑبڑاتے اور بات کرتے ہوئے سنا جاسکتا تھا اور وہ بار بار یہ کہتا تھا کہ وہ کسی کوچوٹ پہنچانا نہیں چاہتا۔

ایک امریکی عہدہ دار نے اے بی سی نیوز کو بتایا کہ اس شخص نے پاکستانی نیورو سائنسدان ڈاکٹرعافیہ صدیقی کا بھائی ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ وہ 2010 میں امریکی فوجیوں اور ایف بی آئی ایجنٹوں پرفائرنگ کے الزام میں امریکا میں 86 سال کی قید کی سزا کاٹ رہی ہیں۔

اس شخص نے فورٹ ورتھ کے علاقے میں واقع ایک وفاقی جیل میں قید ڈاکٹرعافیہ کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔تاہم عافیہ صدیقی کی نمائندگی کرنے والی ایک وکیل مروہ ایلبیلی نے سی این این کو ایک بیان میں بتایا کہ یہ شخص ان کا بھائی نہیں تھا اور ڈاکٹرصدیقی کے اہل خانہ نے اس شخص کے’’گھناؤنے‘‘فعل کی مذمت کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں