سوڈان:غیر یقینی سیاسی صورتحال؛متوازی مارکیٹ میں پاؤنڈ کی قیمت گرگئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سوڈان میں اتوار کے روز بلیک مارکیٹ میں ملکی کرنسی کی قیمت میں تین فی صد سے زیادہ کمی واقع ہوئی ہے اور ایک ڈالر کی قیمت 465 سوڈانی پاؤنڈ ہوگئی ہے کیونکہ اکتوبر میں فوج کی حکومت مخالف بغاوت کے بعد جاری سیاسی غیریقینی صورت حال میں ڈالر کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے۔

سوڈانی پاؤنڈ کی قدر میں فروری 2021ء میں عبوری حکومت کی جانب سے متعارف کردہ اقتصادی اصلاحات کے بعد تیزی سے کمی واقع ہوئی تھی۔البتہ وہ حالیہ مہینوں میں زیادہ تر مستحکم ہوا تھا اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی نگرانی میں تھا۔

فوجی قیادت نے اصلاحات کے تحفظ کی کوشش کے نام پر وزیراعظم عبداللہ حمدوک کی حکومت تحلیل کردی تھی اور انھیں نومبر میں ایک معاہدے کے تحت بحال کیا تھا لیکن انھوں نے رواں ماہ کے اوائل میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

دارالحکومت خرطوم کے ایک تاجرکا کہنا تھا کہ لوگ اپنے اثاثوں کے تحفظ کے لیے ڈالرخرید کررہے ہیں، ملک کی صورت حال خراب ہونے کے خدشے کے پیش نظرڈالر کی بڑی مانگ ہے۔

گذشتہ ہفتے ڈالر تقریبا450 پاؤنڈ میں فروخت ہورہا تھا۔ پچھلے چند ماہ میں متوازی مارکیٹ اور سرکاری شرح تبادلہ کے درمیان فرق نہ ہونے کے برابر تھا۔

اقوام متحدہ نے گذشتہ ہفتے فوجی قیادت اور جمہوریت نواز سویلین گروپوں کے درمیان تعطل کو ختم کرنے اور ملک کو مزید عدم استحکام کا شکار ہونے سے بچانے کی کوشش میں مشاورت شروع کی تھی۔

سوڈان کی معیشت فوجی بغاوت سے قبل برسوں کے معاشی بحران کے بعد مستحکم ہونے کے آثار ظاہر کررہی تھی۔ سنہ2019 میں برپاشدہ عوامی احتجاجی تحریک نے مطلق العنان سابق صدرعمرالبشیر کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔اس عوامی تحریک نے بھی ملک کی ابترمعاشی صورت حال سے جنم لیا تھا۔

جمہوریت کے حامی کارکنان 25 اکتوبرکواقتدار پر فوجی قبضے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کررہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ فوجی قیادت نے سابق صدرعمرالبشیر کی معزولی کے بعد شروع ہونے والااقتدارکی منتقلی کا عمل پٹڑی سے اتاردیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں