کابل:طالبان جنگجوؤں کاحقوق کا مطالبہ کرنے والی خواتین مظاہرین پرکالی مرچ کاچھڑکاؤ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں طالبان فورسز نے اتوارکے روز خواتین مظاہرین کے ایک گروپ پر کالی مرچ کا سپرے کردیا ہے۔خواتین جنگ زدہ ملک میں کام اور تعلیم کا حق دینے کا مطالبہ کررہی تھیں۔

طالبان حکام نے اگست میں طاقت کے ذریعے کابل میں اقتدارپر قبضہ کرنے کے بعد افغانوں بالخصوص خواتین پر بعض پابندیاں عاید کردی ہیں اورانھیں گھروں سے باہرکام کرنے اور تعلیم کے حصول کی اجازت دینے سے انکاری ہیں۔

فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی کے ایک نامہ نگار نے بتایا کہ قریباً 20 خواتین کابل یونیورسٹی کے سامنے جمع ہوئیں اور انھوں نے ’’مساوات اورانصاف‘‘کا نعرہ لگایا۔انھوں نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر’’خواتین کے حقوق اورانسانی حقوق‘‘لکھا ہوا تھا۔

تین خواتین نے اے ایف پی کوبتایا کہ بعد میں طالبان جنگجوؤں نے احتجاجی مظاہرے کو منتشر کردیا۔ وہ متعدد گاڑیوں میں جائے وقوعہ پر پہنچے تھے۔

ایک خاتون نے بتایا کہ ’’جب ہم کابل یونیورسٹی کے قریب تھے تو طالبان کی تین گاڑیاں آئیں اور ایک گاڑی میں سوار جنگجوؤں نے ہم پرکالی مرچ کا سپرے کیا ہے۔اس سے میری دائیں آنکھ میں جلن ہونے لگی۔ میں نے ان میں سے ایک سے کہا:’’تمھیں شرم کرنی چاہیے‘‘۔اور پھر اس نے میری طرف اپنی بندوق کی طرف اشارہ کیا۔

دوسری دوخواتین نے بتایا کہ سپرے کے بعد ان میں سے ایک عورت کو اسپتال لے جانا پڑاجس سے اس کی آنکھوں اور چہرے پر الرجی کا رد عمل ہوا ہے۔

اے ایف پی کے نامہ نگار کے مطابق طالبان کے ایک جنگجو نے ایک شخص کا موبائل فون بھی ضبط کر لیا ۔وہ مظاہرے کی فلم بندی کررہا تھا۔

واضح رہے کہ سخت گیرگروپ نے غیرمنظورشدہ مظاہروں پرپابندی عاید کررکھی ہے اوروہ خواتین کے حقوق کے لیے نکالی جانے والی ریلیوں کو زبردستی منتشر کردیتے ہیں۔

طالبان حکام نے سرکاری شعبے کی ملازم خواتین کو کام پر واپس جانے سے روک دیا ہے۔بہت سے سیکنڈری اسکول ابھی تک لڑکیوں کے لیے دوبارہ نہیں کھولے گئے ہیں اور سرکاری یونیورسٹیاں بند ہیں۔افغان خواتین کے طویل فاصلے کے سفر پرجانے پر بھی پابندی عایدکردی گئی ہے اور وہ کسی قریبی مرد رشتہ دار کے بغیر سفر نہیں کرسکتی ہیں۔

طالبان حکام نے خواتین سے متعلق رہ نما خطوط بھی جاری کیے ہیں۔ان میں ٹیلی ویژن چینلوں کو اداکاراؤں کے کردار والی سیریل نشر کرنے سے روکنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

دریں اثناء ملک میں بہت سی خواتین روپوش زندگی گزاررہی ہیں۔ طالبان 1996سے2001ء تک اپنے پہلے دورِاقتدارمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بدنامی مول لی تھی۔11 ستمبر2001ء کے حملوں کے بعد امریکا کی قیادت میں غیرملکی فوجوں نے افغانستان پر چڑھائی کی تھی اور طالبان کا اقتدارختم ہوگیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں