افغان طالبان کا شمالی مغربی شہر میں بدامنی کے بعد پریڈ کے ذریعے فوجی طاقت کا مظاہرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

افغانستان کے شمال مغربی شہر میمنہ میں طالبان جنگجوؤں نے اختتام ہفتہ پرطاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پریڈ کی ہے۔اس شہر میں ایک مقبول کمانڈرکوحراست میں لینے پر بدامنی پھیل گئی تھی اور اس کو ختم کرنے کے لیے طالبان نے بھاری کمک بھیجی تھی۔

گذشتہ ہفتے صوبہ فاریاب کے دارالحکومت میمنہ میں ازبک طالبان کمانڈرکواغوا کی سازش میں مبیّنہ روابط کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا جس کے بعد شہر میں مظاہرے شروع ہوگئے تھے۔

اس بدامنی کے نتیجے میں ازبک اور پشتون شہریوں اور طالبان جنگجوؤں کے درمیان نسلی کشیدگی پھیلنے کے خدشات پیدا ہو گئے تھے اور غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق دونوں نسلی گروہوں کے متعدد ارکان اکا دکاجھڑپوں میں ہلاک ہو گئے ہیں۔

افغان وزارت دفاع کے ایک سینیرعہدہ دار لطیف اللہ حکیمی نے اختتام ہفتہ پر اے ایف پی کو بتایا کہ ہم نے ہمسایہ صوبوں سے سیکڑوں جنگجوؤں کو فاریاب بھیجا ہے اور اب صورت حال قابو میں ہے۔

اتوار کی پریڈ میں نقاب پوش جنگجوؤں کے دستے شامل تھے۔انھوں نے سفید شلوار قمیص ،خاکی جنگی واسکٹ اور سروں پراسکارف پہنے ہوئے تھےجن پر کلمہ طیبہ لکھا ہوا تھا۔میمنہ کے مکینوں نے اپنے فون کے کیمروں سے پریڈ کی فلم بندی کی ہے اور وہ پریڈ دیکھنے کے لیے قطاروں میں کھڑے تھے۔

بیسیوں طالبان جنگجو بکتربند اور فوجی گاڑیوں پر سوار تھے۔یہ انھوں نے گذشتہ سال سابق افغان حکومت کی فورسز سے چھینی تھیں یاامریکی فوجی انخلا کے وقت انھیں جنگ زدہ ملک ہی میں چھوڑ گئے تھے۔

شہرکے ایک بیس سالہ دکان دار روح اللہ نے بتایا کہ ’’دو روز قبل مظاہرے کی وجہ سے صورت حال بہترنہیں تھی لیکن اب صورت حال معمول کے مطابق ہے۔ہمارا واحد مسئلہ یہ ہے کہ لوگوں کے پاس روزگار نہیں لیکن اب وہ امن وامان کی بحالی اور سکیورٹی سے بہت خوش ہیں‘‘۔

میمنہ میں طالبان کے ایک کمانڈرجاوید کا کہنا تھا کہ’’ ہم نے لوگوں کو یقین دلانے کے لیے شہر میں فوجی پریڈ کی تھی کہ ہم کسی کو بھی سکیورٹی میں رکاوٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دیں گے‘‘۔

طالبان نے فوجی طاقت کا یہ مظاہرہ ایسے وقت میں کیا ہے جب افغانستان معاشی تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے اور نئے حکمران طاقت کے ذریعے آگے بڑھنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔اقوام متحدہ کے اندازے کے مطابق اس وقت افغانستان کی نصف سے زیادہ آبادی کو شدید بھوک کا سامنا ہے۔

یہ اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ دور دراز علاقوں میں طالبان کی اعلیٰ اور ادنیٰ قیادت کے درمیان نظم و ضبط ایک مسئلہ بنتا جا رہا ہے، مقامی کمانڈرکابل کے احکامات کو نظر اندازکر رہے ہیں یا اپنی مرضی کے احکامات پر عمل درآمد کر رہے ہیں۔

طالبان نے اس مرتبہ 1996-2001ء کی حکومت کے مقابلے میں نرم حکمرانی کاوعدہ کیا ہے اور انھوں نے ضوابط کی خلاف ورزی کرنے والے ارکان کی نشان دہی کے لیے ایک کمیشن قائم کیا ہے۔اس کی کارروائی میں قریباً 3000 افراد کو برطرف کیا جاچکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں