یمن اور حوثی

یواے ای کی سلامتی حوثی دہشت گردوں کی چھیڑچھاڑ سے متاثرنہیں ہوگی:انورقرقاش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

متحدہ عرب امارات کے صدر کے سفارتی مشیرانورقرقاش نے ابوظبی میں شہری اہداف پر حملے کو’’حوثیوں کی جارحیت‘‘قراردیا ہے۔اس حملے میں تین افراد ہلاک اور چھے زخمی ہوگئے ہیں۔انھوں نے اس بات پر زوردیا ہے کہ یمن کی دہشت گردملیشیا یواے ای کی سلامتی کو غیر مستحکم نہیں کرسکتی۔

انھوں نے ٹویٹرپر ایک بیان میں کہا کہ ’’یواے ای میں متعلقہ حکام ابوظبی میں بعض شہری تنصیبات پرحوثیوں کی جارحیت سے شفاف انداز میں اور ذمے داری سے نمٹ رہے ہیں‘‘۔

انھوں نے مزید کہا:’’دہشت گرد ملیشیا کی خطے کے استحکام کے ساتھ چھیڑچھاڑ اس حد تک کمزور ہے کہ ہم جس سلامتی اور تحفظ میں رہتے ہیں،یہ اس پراثرانداز نہیں ہو سکتی اوراس عاقبت نا اندیشانہ حرکت اور بے ہودگی کا انجام زوال اور شکست ہے‘‘۔

قبل ازیں پولیس نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظبی میں دوجگہوں پر آگ لگنے سے ہلچل مچ گئی اور اس کے نتیجے میں ایندھن کے تین ٹینکردھماکے سے پھٹ گئے جس سے تین افراد ہلاک اور چھے زخمی ہو گئے ہیں۔

ابوظبی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی نئی تعمیراتی جگہ کے علاقے میں بھی’’معمولی‘‘آگ بھڑک اٹھی تھی جس پر فوری طورپرقابو پا لیا گیا تھا۔

پولیس نے ابتدائی تحقیقات کے حوالے سے بتایا ہے کہ دونوں علاقوں میں چھوٹی اڑنے والی اشیاء گری تھیں اور وہ ممکنہ طور پر ڈرونز تھے۔ان کے پھٹنے سے دھماکا ہوا تھا اور پھرآگ لگ گئی تھی۔پولیس واقعے کی تحقیقات کررہی ہے۔

ایران کی حمایت یافتہ یمن کی حوثی ملیشیا نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ اس نے’’متحدہ عرب امارات میں گہری کارروائی‘‘ کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں