ترک صدرایردوآن کا اسرائیل کے ساتھ برسوں کی کشیدگی کے بعد برف پگھلنے کا اشارہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں ایک عشرے سے زیادہ عرصے کی کشیدگی کے بعد برف پگھلنے کا اشارہ دیا ہے اوراس کے ساتھ توانائی کے ایک اہم منصوبے کی حمایت کا اظہارکیا ہے۔

صدر ایردوآن نے پیر کی شام البانیا سے وطن لوٹتے ہوئے اسرائیلی رہ نماؤں کے ساتھ بات چیت کا اعتراف کیا اور کہا کہ حکام پائپ لائن کے منصوبے پر مذاکرات بحال کر سکتے ہیں۔اس کے ذریعے بحرمتوسط (مشرقی بحیرہ روم) سے ترکی کے راستے یورپ تک قدرتی گیس مہیا کی جائے گی۔

انھوں نے کہا کہ ’’ہم اسرائیلی صدراسحاق ہرتصوغ سے بات چیت کر رہے ہیں۔وزیراعظم نفتالی بینیٹ بھی مختلف سطحوں پر پیغامات بھیج رہے ہیں۔انھیں حال ہی میں مشرق اوسط کے یہودی ربیوں کا ایک وفد ملا ہے‘‘۔ انھوں نے کہا کہ ’’اگر ہم سیاست کرنے جا رہے ہیں تو ایسا تصادم کے ذریعے نہیں کیا جا سکتا،ہمیں امن کی راہ پرسیاست کرنا ہوگی‘‘۔

مصر، قبرص، یونان سمیت ممالک کا ایک گروپ خطے میں دریافت ہونے والی گیس کی پیداواراورنقل و حمل میں تعاون کررہا ہے لیکن بحر متوسط کے مسابقتی پانیوں میں ترکی کی قدرتی وسائل کی تلاش کی سرگرمیوں نے اس منصوبے کو بڑی حد تک تعطل کا شکار کردیاہے۔

حال ہی میں روس کے ساتھ تعلقات میں دراڑ، طیب ایردوآن کے ناقد ڈیموکریٹ جو بائیڈن کے بہ طور صدرامریکا انتخاب اور امریکی اور یورپی پابندیوں کے خطرے نے ترکی کو روایتی مغربی اتحادیوں اور علاقائی طاقت سعودی عرب کے ساتھ کشیدہ تعلقات کی از سرنو بحالی کی کوشش پرمجبورکردیا ہے۔

یہ سفارت کاری ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ترکی کی ہچکولے کھاتی معیشت اورآسمان سے باتیں کرتے افراط زرسے 2023 کےعام انتخابات سے قبل صدر ایردوآن کی عوامی مقبولیت کوخطرہ لاحق ہوچکا ہے۔

ان کے مذکورہ بیان سے ترکی کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو بھی بہتربنانے کی کوشش کا اشارہ مل رہا ہے۔2010 کے بعد سے دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تعلقات سردمہری کا شکار ہیں۔ تب غزہ کی پٹی جانے والے ترکی کے امدادی قافلے فریڈم فلوٹیلا پراسرائیلی کمانڈوز نے چھاپا مار کارروائی کی تھی۔اس کے نتیجے میں 10 شہری ہلاک ہو گئے تھے۔اس واقعے کے بعد دونوں ملکوں میں تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے اور انھوں نے اپنے اپنے سفیروں کوواپس بلا لیا تھا۔

ترکی فلسطین کے بارے میں اسرائیل کی پالیسیوں پر تنقید کرتا رہتا ہے جبکہ اسرائیل ترکی پرغزہ کی پٹی کے حکمران اسلامی مزاحمتی گروپ حماس کی حمایت کا الزام عاید کرتا ہے۔

ترکی نے مئی 2018 میں انقرہ میں تعینات اسرائیلی سفیر کو نکال دیا تھا اور اسرائیل اور امریکاسے اپنے سفیروں کو واپس بلا لیا تھا۔اس نے یہ فیصلہ اسرائیلی فوج کی فلسطینیوں کے خلاف تشددآمیز کارروائیوں کے ردعمل میں کیا تھا۔اسرائیلی فوجیوں نے امریکی سفارت خانے کی تل ابیب سے یروشلم میں منتقلی کے خلاف احتجاج کرنے والے 60 کے قریب فلسطینیوں کو شہید کر دیا تھا۔

ترکی نے قریباً دو ہفتے کے بعد اپنے سفیر کو واپس واشنگٹن بھیجا تھا لیکن تب سے تل ابیب میں ترکی کے ناظم الامور کی سطح پر سفارت کارسفارتی امور انجام دے رہے ہیں۔اسرائیل نے بھی انقرہ میں اپنے سفیر کا تقرر نہیں کیا ہے اور ایک ناظم الامور ملک کی نیابت کررہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں