ہم قفقاز کے لیے بہت حساس ہیں اور سرحدوں کو تبدیل نہیں ہونے دیں گے: مشیر خامنہ ای

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران نے ایک بار پھر آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان اتفاق رائے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ اتفاق رائے جمہوریہ آذربائیجان کو ایران سے آرمینیا کو الگ کرنے والی سرحدی پٹی کے راستے کو کنٹرول کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ ایران نے کہا ہے کہ وہ سرحدوں کو تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

ایرانی خبر رساں ادارے ’تسنیم‘ کے مطابق سابق وزیر خارجہ اور سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر علی اکبر ولایتی نے کہا کہ ہم قفقاز کے علاقے خاص طور پر جنوبی قفقاز جو ہماری سرحدوں کے سب سے حساس حصوں میں سے ایک ہے کے لیے بہت حساس ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم قفقاز میں اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ ایران کی سرحدوں پر کوئی تبدیلی نہیں چاہتے۔ اگر سرحدوں پر کوئی تبدیلی ہوتی ہے تو اس سے ہماری سلامتی پر اثرات مرتب ہوں گے۔

سابق ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ پچھلے اور موجودہ تجربات سے پتہ چلتا ہے کہ اگر ممالک کی سرحدوں میں تبدیلی کی گئی تو ایسے بحران پیدا ہوں گے کہ کسی کو اس کے نتائج کا ادراک نہیں ہوگا۔

ولایتی، جو بین الاقوامی امور میں ایرانی رہبر اعلیٰ کے سب سے سینیئر مشیر ہیں، نے وضاحت کی کہ ہمارے ملک کے شمال اور شمال مغرب میں آذربائیجان، آرمینیا اور ترکی ہیں۔ عملی طور پر تمام آذربائیجان، آرمینیا اور جارجیا جنوبی قفقاز میں واقع ہیں۔ اہم مسئلہ یہ ہے کہ آذربائیجان اور آرمینیا دونوں کی ایران کے ساتھ سرحدیں ملتی ہیں۔ لہٰذا ہم سرحدوں کو تبدیل نہیں ہونے دیں گے۔امریکا جیسے فطری جارحاوں کو وہاں آکر بسنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان چیک پوائنٹ
آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان چیک پوائنٹ

سرحدوں کی تبدیلی سے ایران کا کیا مطلب ہے؟

ایرانی تشویش کی تفصیلات شمال مغربی ایران میں ایک سرحدی علاقے کے گرد گھومتی ہیں جس کے ذریعے جمہوریہ آرمینیا ایران سے جڑتا ہے۔آرمینی صوبے سیونک سے گذرنے والی سرحدی پٹی کا فاصلہ 35 کلومیٹر ہے۔ جمہوریہ آذربائیجان اور ناخشیفان کا علاقہ ایک خود مختار علاقہ ہے جس کی آبادی 450,000 سے زیادہ ہے۔ ان میں زیادہ تر ترکی اور آذر بائیجان کے لوگ آباد ہیں۔

خیال کیا جاتا ہے کہ جمہوریہ ناخیشان کی مادر وطن آذربائیجان سے کوئی سرحد نہیں ہے سوائے آرمینیا کے علاقے کے۔ یہاں سے وہ کہانی شروع ہوتی ہے جو تہران کو پریشان کرتی ہے۔ جمہوریہ آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان حالیہ جنگ کے دوران ایک جنگ بندی کے معاہدے میں آذربائیجان کو ایران اور ترکی کی سرحد سے متصل ناخشفان تک زمینی راستہ دینے کی شق شامل کی گئی تھی اور آرمینیائی سرزمین پر ایران سے متصل اس سڑک کا کنٹرول جمہوریہ آذربائیجان کے ہاتھ میں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں