’یقین نہیں آتا کہ میں نے طویل عرصہ کومے میں کیسے گذرا؟‘

کرونا کی وجہ سے 90 دن کومہ میں رہنے والے سعودی استاد سے گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب کے ایک نوجوان استاد جو ایک ہی وقت میں کئی جسمانی بیماریوں کا شکار ہوئے اور کرونا کا شکار ہونے کے بعد 90 دن تک کومے میں رہے ایک بار پھر ہوش میں آ گئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ موت کے منہ سے واپس آئے ہیں اور انہیں ایک بار پھر نئی زندگی ملی ہے۔

معلم خالد عکاش ڈائیلائسز کی بار بار تکلیف اور صدمے سے گذرنے کےساتھ ساتھ ایک سال سے زاید عرصے سے آپریشن اور گردے کی پیوند کاری کی بھی تیاری کر رہے تھے۔

بستر علالت سے بھی خالد عکاش نے تکلیف اور درد کے باوجود اسپتال میں ڈائیلاسز سیشن کے دوران اپنے طالب علموں کو آن لائن درس دیتے رہے۔

عکاش کرونا وائرس سے متاثر ہوئے اور ان کی صحت کی حالت تشویشناک حالت تک خراب ہو گئی۔ وہ کومہ میں چلے گئے اور مسلسل 90 دن سے زائد تک کومے میں رہے۔

عکاش نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "کرونا وائرس کے انفیکشن کے باعث میرا جسم ٹوٹ گیا۔ میں الخرج میں شاہ خالد اسپتال میں داخل ہوا اور پانچ دن بعد میری حالت مزید بگڑ گئی، ڈاکٹروں نے مجھے شہزادہ محمد بن عبدالعزیز ہسپتال منتقل کردیا۔ وہاں سے میں ریاض میں شہزادہ محمد بن عبدالعزیز اسپتال آ گیا۔ وہاں بھی میری حالت نہ سنبھلی اور میں کومے میں چلا گیا۔

میں کومہ میں تھا جو 90 دن سے زائد عرصے تک اسی حالت میں رہا۔ درد، صدمے سے دوچار ہونے کے ساتھ مجھے ڈراؤنے خواب آنے لگے۔ یہ بہت مشکل دن اور مہینے تھے۔ ایک طویل عرصے تک تکلیف کے بعد میں بیدار ہوا۔ یقین نہیں آتا کہ میں نے یہ طویل عرصہ کومہ میں گذارا ہے۔ میں نے اپنے خاندان اور اس عرصے کے لیے ان کے مصائب کے بارے میں سوچا۔ اس تمام تکلیف اور اداسی کے دوران انہوں نے دن کیسے گزارے تھے؟

اپنی موجودہ صحت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ الحمد للہ میں کرونا کا مرحلہ عبور کر چکا ہوں لیکن میں اب بھی ڈائیلاسز کی تکلیف کا شکار ہوں کیونکہ میں نے ڈیڑھ سال قبل ریاض میں ٹرانسپلانٹ کے لیے درخواست دی تھی لیکن میری درخواست مسترد کر دی گئی۔ مجھے امید ہے کہ یہ تکلیف ختم ہو جائے گی اور مجھے خدا، چاہنے والوں اور وزارت صحت پر امید اور بھروسہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں