سعودی عرب: انسداد بدعنوانی کمیشن کے تحت متعدد فوجداری مقدمات کی تحقیقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب کے محکمہ انسداد بدعنوانی [کنٹرول اینڈ اینٹی کرپشن اتھارٹی] کے ایک سرکاری ذریعے نے بتایا کہ اتھارٹی نے گذشتہ عرصے کے دوران متعدد فوجداری مقدمات کی تحقیقات کے بعد انہیں نمٹا دیا۔ بعض کیسز میں ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی مکمل کی جا رہی ہے۔ اہم ترین مقدمات کی تفصیل ذیل میں بیان کی جا رہی ہے:

پہلا کیس

پہلے کیس میں ایک نوٹری کی معطلی شامل ہے۔ اس پر الزام تھا کہ اس نے اپنے گرفتار بھائی کے ذریعے 4,461,500 ریال کی رقم حاصل کرنے کے بدلے میں ایک "گرفتار" تاجر اور اس کی بہن کے لیے "تحفہ" کے طور پر دو زمینیں غیر قانونی طور پر خالی کروانے کے بدلے ادا کیے جب کہ زمین کے مالک کو اس کا علم نہیں۔

دوسرا کیس

سرحدی محافظوں میں سے ایک ریٹائرڈ بریگیڈیئر جنرل کو معطل کیا گیا۔ ان پر دس ملین ریال قسطوں میں حاصل کرنے پر ایک خطہ میں سرحدی پناہ گاہ سے متعلق کمیٹی میں اپنے کام کی مدت کے دوران 15 شہریوں کے لیے معاوضے کی درخواستیں قبول کیں۔انہیں غیر قانونی طور پر زمینوں کی الاٹ منٹ کی، جو غیر قانونی طور پر ملکیت رکھتے تھے اور شرائط پر پورا نہیں اترتے تھے۔

تیسرا کیس

سعودی عرب کی ایک گورنری میں میئر کے طور پر کام کرنے والے ایک انجینیئر کو معطل کیا گیا۔اس پر الزام تھا کہ اس نے اپنے تجارتی ادارے کے فائدے کے لیے جعلی سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے عوض ایک تاجر سے 350,000 ریال کی رقم حاصل کی تھی۔

چوتھا کیس

ایک گورنری میں سعودی شہری کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ اسے اس وقت گرفتارکیا گیا جب اس 32000 ریال میں سے 12500 ریال کی رقم وصول کرتے دیکھا گیا۔اس نے یہ رقم وزارت انسانی وسائل اور سماجی ترقی کے ساتھ ایک کمپنی کی 16 خلاف قانون سرگرمیوں پر ہونے والے چالان منسوخ کرنے پر رشوت کے طورپر لی تھی۔

پانچواں کیس

وزارت صحت میں 9 آپریٹرز اور 6 رہائشی ایجنٹوں کو معطل کیا گیا۔ ان پر الزام تھا کہ وہ کرونا ویکسین کے بغیر شہریوں کو رقم کے عوض ویکسین سرٹیفکیٹ جاری کر رہے تھے۔

چھٹا معاملہ

یونیورسٹی میں بطور لیکچرر کام کرنے والے رہائشی کو معطل کیا گیا۔ اس نے دو مضامین کا امتحان پاس کرنے میں مدد کے عوض یونیورسٹی کے طالب علم سے 2,000 دو ہزار ریال کی رقم حاصل کی تھی۔

ساتواں کیس

آنکھوں دیکھے جرم میں دو غیر ملکیوں کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ انہوں نے ایک بینک ملازم کو ایک ہزار ریال کی رقم پر تین ریال کی رشوت دینے کی پیش کش تاکہ رقم کرنے کے بارے میں متعلقہ حکام کو مطلع نہ کیا جائے۔ تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی کہ اس سے قبل ان لوگوں نے کل 7500000 ریال کی رقم جمع کی تھی۔

آٹھواں کیس

اس کیس میں میونسپلٹی میں کام کرنے والے ملازم کی معطلی شامل ہے۔ ملزم نے متعدد دکانوں کے مالکان سےان کی خلاف قانون سرگرمیوں پر چشم پوشی اختیار کرنے کے بدلے میں 132350 ریال کی رقم رشوت کے طور پر وصول کی تھی۔

نواں کیس

اس کیس میں سعودی عرب میں ایک جنرل اسپتال کے ایمپلائمنٹ ڈیپارٹمنٹ میں کام کرنے والے ملازم کو معطل کیا گیا۔ ملزم پر الزام تھا کہ اس نے ایک خاتون اور اس کی ہمشیرہ کونوکری دینے کے عوض ان سے 13,000 ہزار ریال کی رقم کی رشوت مقرر کی تھی جس میں سے ایک ہزار ریال وصول کرلیے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں