متحدہ عرب امارات میں منی لانڈرنگ کے مرتکب نو رکنی ’گینگ‘ کا مقدمہ عدالت کے سپرد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

متحدہ عرب امارات میں حکام نے منی لانڈرنگ کے الزام میں گرفتارنوافراد کا مقدمہ عدالت کے سپرد کردیا ہے۔تمام ملزمان ’’چوری اور دھوکا دہی کی کارروائیوں‘‘سے جمع کی گئی رقوم کی لانڈرنگ کے مرتکب پائے گئے ہیں۔

یواے ای کے پبلک پراسیکیوشن نے مدعاعلیہان کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔شارجہ کے پبلک پراسیکیوشن نے انھیں ایک وسیع اسکیم کے ذریعے کارکنوں کو حیلے بہانے سے لوٹنے کا مرتکب پایا ہے۔

پبلک پراسیکیوشن کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’نومشتبہ افراد کا گروہ‘‘ سِم کارڈ جاری کرتا تھا،بنک کھاتے کھولتا تھا اور کارکنوں کے نام سے اے ٹی ایم کارڈ حاصل کرتا تھا۔

یہ گروپ مبیّنہ طور پرآن لائن بینکنگ ایپلی کیشنز کے ذریعے ان اکاؤنٹس کو چلاتا اور ان کا انتظام کرتا تھا اور اپنا ڈیٹا اپ ڈیٹ کرانے کے خواہاں متاثرین سے خود کو بنک ملازمین کی شناخت کا بہانہ بنا کر دھوکا دہی سے روابط استوار کرتا تھا یا ان سے مالی فائدہ پہنچانے کی اسکیم کا حوالہ دے کر رابطہ کرتا تھا۔

اس طرح دھوکا دہی سے اس گروپ کے نوارکان کو صارفین سے ضروری معلومات حاصل کرنے،اس مقصد کے لیے کھولے گئے دیگربنک کھاتوں میں رقم منتقل کرنے، نقد رقم نکلوانے اور پھر اسے بیرون ملک ان کے اکاؤنٹس میں جمع کرانے کا موقع مل جاتا تھا۔تحقیقات سے یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ اس گروپ نے بنکوں کی جعلی مہریں بھی بنا رکھی تھیں۔

سرکاری خبررساں ایجنسی وام کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق پبلک پراسیکیوشن نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ وہ انسداد منی لانڈرنگ اوردہشت گردی کی مالی معاونت کا مقابلہ کرنے سے متعلق 2018 کے وفاقی فرمان نمبر20 کی دفعات کے تحت ملزمان کے خلاف زیادہ سے زیادہ جرمانے کا اطلاق کرے۔

اس قانون میں یہ شرط عاید کی گئی ہے کہ جرم کے مرتکب افراد کوعارضی قید میں رکھا جاسکتا ہے اوران پرکم سے کم تین لاکھ اماراتی درہم (81,600 ڈالر) اور زیادہ سے زیادہ ایک کروڑ اماراتی درہم (27 لاکھ ڈالر) جرمانہ عاید کیا جائے گا۔

پبلک پراسیکیوشن نے بیان میں تصدیق کی ہے کہ ملزموں کے خلاف ضروری قانونی کارروائی مکمل کرلی گئی ہے اور عوام پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ’’محتاط رہیں اور دھوکا بازوں کے ساتھ تعاون کریں اور نہ ان کی کسی بات کا جواب دیں‘‘۔

بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق متحدہ عرب امارات کو منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت سے نمٹنے میں خامیوں کی بنا پر’’عالمی نگران کی فہرست میں ڈالے جانے کا خطرہ بڑھ گیا ہے‘‘ حالانکہ حکومت کی جانب سے غیر قانونی لین دین کو ختم کرنے پر زور دیا جارہا ہے۔

یواے ای کے مرکزی بنک نے اگست 2020ء میں انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے معاملات (اے ایم ایل/سی ایف ٹی) کو نمٹانے کے لیے ایک وقف محکمہ قائم کیا تھا۔اس سے پہلے ان امور کوبنک کاری کا نگران محکمہ دیکھ رہا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں