یمن اور حوثی

یمن میں مشکل جنگ کو روکنے کے لیے ہمیں شراکت داروں کی ضرورت ہے: جوبائیڈن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی صدر جو بائیڈن نے العربیہ/الحدث کو بتایا کہ "یمن میں جنگ روکنا مشکل ہو گا کیونکہ ہمیں اسے ختم کرنے کے لیے شراکت داروں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ان کی انتظامیہ حوثیوں کو دہشت گردوں کی فہرست میں واپس کرنے کے فیصلے پر نظر ثانی کرے گی۔

امریکی محکمہ خارجہ نے بدھ کی شام العربیہ اور الحدث کو بتایا تھا کہ صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ نے یمن میں کشیدگی میں کردار ادا کرنے والے حوثی رہ نماؤں کو سزا دی ہے اور وہ مزید سزا دے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ انتظامیہ حوثی رہ نماؤں کو سزا دے گی جو شہریوں کے لیے خطرہ ہیں۔ وہ ایسے اداروں کو نشانہ بنانے سے نہیں ہچکچائے گی جو یمن میں تنازع کو بڑھاتے ہیں۔

بدھ کے روز واشنگٹن میں اماراتی سفیر یوسف العتیبہ نے امریکی انتظامیہ اور کانگریس سے مطالبہ کیا کہ وہ حوثی ملیشیا کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قراردیں۔

اماراتی سفیر نے ابوظبی کے ولی عہد اور متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج کے ڈپٹی سپریم کمانڈر شیخ محمد بن زاید آل نہیان کی امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کے ساتھ ملاقات کے دوران ہونے والی بات چیت کا خلاصہ پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں رہ نمانوں نے حوثی ملیشیا کی حالیہ دہشت گردی پر بات کی ہے۔

دونوں رہ نماؤں نے میزائلوں اور ڈرونز کے خلاف فضائی دفاع کو مضبوط کرنے اور حوثیوں کو ہتھیاروں کی ترسیل کو روکنے کے لیے میری ٹائم سیکیورٹی کو بڑھانے کے لیے فوری اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں