یمن کے دالحکومت کی صنعاء یونیورسٹی میں حوثیوں کا طلبہ وطالبات پر منظم حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن میں دہشت گرد حوثی ملیشیا نے دارالحکومت کی صنعاء یونیورسٹی میں طلبہ پر دھاوا بول دیا۔ صنعاء یونیورسٹی کا شمار ملک کی سب سے بڑی سرکاری جامعات میں ہوتا ہے۔ یہ یونیورسٹی ان دنوں حوثیوں کے کنٹرول میں ہے۔

ذرائع کے مطابق جامعہ میں کلیہ طب کے طلبہ وطالبات احتجاجی مظاہرہ کر رہے تھے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ فرسٹ ٹرم کے حتمی امتحانات کو ملتوی کیا جائے۔ اس کی وجہ بعض انتظامی امور اور طلبہ کے اپنے مسائل تھے۔ حوثی قیادت کی جانب سے مقرر کیے گئے کلیہ طب کے ڈین حسن المحبشی نے اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے مسلح حوثیوں کو بلا لیا تا کہ وہ طلبہ کا احتجاج کچل سکیں۔

ذرائع نے بتایا کہ حوثی ملیشیا کے مسلح غنڈوں نے احتجاجی طلبہ پر حملہ کر کے ان میں متعدد کو گرفتار کر لیا۔ انہوں نے کیمپس کے اندر فائرنگ بھی کی۔

سوشل میڈیا پر ایک وڈیو کلپ گردش میں ہے جس میں حوثی ملیشیا کے مسلح ارکان طلبہ و طالبات پر دھاوا بولتے دکھائی دے رہے ہیں۔ وڈیو میں طلبہ یہ نعرہ لگاتے نظر آ رہے ہیں کہ "عوام ڈین کی برطرفی چاہتی ہے"۔

دوسری جانب یمن کے وزیر اطلاعات معمر الاریانی نے ایران نواز حوثی ملیشیا کی جانب سے صنعاء یونیورسٹی کی کلیہ طب کے طلبہ و طالبات پر حملے کو منظم "غنڈہ گردی" قرار دیا۔ اپنی سلسلہ وار ٹویٹس میں الاریانی کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا پر زیر گردش مناظر سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ حوثیوں نے احتجاج کرنے والے طلبہ و طالبات پر دھاوا بولا، ان کو اسلحے کے زور پر دھمکایا، ان میں سے بعض کو گرفتار کیا اور احتجاج میں شریک طالبات کو گالیاں دیں۔

یمنی وزیر نے زور دیا کہ حوثی ملیشیا اور اس کی قیادت کو ہر سطح پر دہشت گرد قرار دے کر ریاست کی واپسی کے سلسلے میں آئینی حکومت کی کوششوں کو سہارا دیا جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں