حزب اللہ سے منسلک نیٹ ورک پر امریکا کی نئی پابندیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

جُمعہ کو امریکی وزارت خزانہ نے لبنانی حزب اللہ ملیشیا سے منسلک ایک بین الاقوامی نیٹ ورک پر پابندیاں عائد کی ہیں۔

امریکی وزارت خزانہ نے ایک بیان میں وضاحت کی ہے کہ حکومت کے فارن اثاثہ جات کنٹرول سیکشن نے حزب اللہ سے منسلک مالی سہولت کار عدنان عیاد کے ساتھ ساتھ اس سے وابستہ بروکرز اور کمپنیوں کے بین الاقوامی نیٹ ورک کے ممبران اور اس کے تجارتی پارٹنر عادل دیاب کو بلیک لسٹ کر دیا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ آج جن لوگوں کی نشاندہی کی گئی ہے ان کی جانب سے پابندیوں سے بچنے کی کوششیں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ کس طرح حزب اللہ بین الاقوامی مالیاتی نظام تک رسائی حاصل کرنے اور اپنی دہشت گردانہ کارروائیوں اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کی حمایت کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے میں کامیاب رہی ہے۔

بیان میں باور کرایا گیا ہے کہ حزب اللہ ملیشیا کی سرگرمیاں لبنانی عوام کے استحکام، سلامتی اور خودمختاری کو نقصان پہنچانے کا باعث بنتی ہیں۔

غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام

امریکی وزارت خزانہ کے انڈر سیکرٹری برائے دہشت گردی اور مالیاتی انٹیلی جنس برائن نیلسن نے کہا کہ پابندیوں کی فہرست میں حزب اللہ سے منسلک بروکرز اور کمپنیوں کے بین الاقوامی نیٹ ورک کے اراکین کو نامزد کرنا "حزب اللہ کے بین الاقوامی مالیاتی نظام کے غلط استعمال کو بے نقاب کرنا اوراس کو ہدف بنا کراس کے لیے پیسہ اکٹھا کرنے پر پابندی عاید کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حزب اللہ کی عدم استحکام کی سرگرمیوں کی وجہ سےلبنانی عوام ایک غیر مسبوق معاشی بحران کا شکار ہیں۔

نیلسن نے مزید کہا کہ وزارت خزانہ حزب اللہ کی غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے اور اس کے کاروباری نیٹ ورکس کے ذریعے پابندیوں سے بچنے کی کوششوں کو روکنے کے لیے پرعزم ہے۔

3 افراد کو سزائیں

قابل ذکر ہے کہ منگل کے روز امریکا نے لبنانی حزب اللہ سے منسلک 3 تاجروں پر یہ کہتے ہوئے پابندیاں عائد کی تھیں کہ ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا کے مالی لین دین میں سہولت فراہم کرنے میں ان کی سرگرمیاں لبنان کے اقتصادی وسائل کا ایک ایسے وقت میں استحصال کرتی ہیں جب ملک بحران کا شکار ہے۔

امریکی وزارت خزانہ نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے عادل دیاب، علی محمد الداون، جہاد سالم العلم اور ان کی کمپنی دارالسلام ٹریول اینڈ ٹورازم کو اپنی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں