عالمی برادری حوثیوں کی تخریب کاری اور دہشت گردی کے خلاف سخت مؤقف اختیارکرے:یواے ای

متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیرانورقرقاش کی امریکا کے یمن کے لیے خصوصی ایلچی سے ملاقات میں گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

العربیہ ڈاٹ نیٹ

متحدہ عرب امارات کے صدر کے سفارتی مشیرانورقرقاش نے ہفتے کے روز یمن کے لیے امریکا کے خصوصی ایلچی ٹِم لنڈرکنگ سے ملاقات کی ہے۔ٹِم لنڈرکنگ خطے کے دورے پر ہیں۔انھوں نے امریکا کے اس مؤقف کااعادہ کیا ہے کہ ’’وہ حوثیوں کے دہشت گردی کے حملےکے مقابلے میں متحدہ عرب امارات کے ساتھ کھڑا ہے‘‘۔

انورقرقاش نے جمعہ کے روز یمن میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے خصوصی ایلچی ہانس گرنڈبرگ سے بھی فون پر گفتگو کی تھی۔انھوں نے ابوظبی میں اسی ہفتے ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کے ڈرون حملے کی نوعیت پر تبادلہ خیال کیا تھا۔اس کے نتیجے میں ایندھن کے ایک ٹینکر میں دھماکے سے تین افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

دونوں ایلچیوں سے بات چیت میں انورقرقاش نے عالمی برادری پرزور دیا کہ وہ بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے خطرہ بننے والی ان تخریبی اور دہشت گردی کی کارروائیوں کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرے۔

انھوں نے کہا کہ حوثی گروپ نے بار بار بین الاقوامی قوانین اورمعاہدوں کی خلاف ورزی کی ہے۔اس نے اسٹاک ہوم معاہدے کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے الحدیدہ کی بندرگاہ کومبینہ طور پر’’بحری قزاقی اور جنگی معاونت‘‘کے لیے استعمال کیا ہے۔

وام کی رپورٹ کے مطابق انور قرقاش نے امریکا کے اس مؤقف کی تعریف کی جس میں ابوظبی پر حملے کی مذمت کی گئی اور خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے حوثیوں کے تخریبی کردارکو روکنے کی غرض سے امریکا اورعالمی برادری کے مشترکہ اقدامات پرزوردیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مؤقف کا ذکرکرتے ہوئے قرقاش کا کہنا تھا کہ ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا کو خطے کے ممالک اور یمنی عوام کی سلامتی کے خلاف کارروائیوں اوران سے بین الاقوامی جہازرانی کولاحق مسلسل خطرے کو روکنے کے لیے سنجیدہ بین الاقوامی مؤقف کی ضرورت ہے۔واضح رہے سلامتی کونسل نے متفقہ طورپرحوثیوں کے یو اے ای پرحملےکی مذمت کی تھی۔

متحدہ عرب امارات کے عہدہ دار نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ’’مناسب بین الاقوامی دباؤ‘‘جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے اور یمنی بحران کا سیاسی حل تلاش کرنے میں مدد گارہوسکتا ہے لیکن ان کے بہ قول حوثیوں نے کبھی کسی معاہدے اور وعدے کی پاسداری نہیں کی اور وہ کسی واضح بین الاقوامی دباؤ کے بغیر ایسا نہیں کریں گے۔

ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا اکثردھماکاخیزمواد سے لدے ڈرونزاور بیلسٹک میزائلوں سے سعودی عرب میں شہری علاقوں اور توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بناتی رہتی ہے۔تاہم ابوظبی میں حالیہ ڈرون حملہ متحدہ عرب امارات کی سرزمین پرحوثیوں کے پہلی جارحیت کی علامت ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں