’جب ایک برطانوی آبدوز غیر ارادی طور پر 5,600 لوگوں کی موت کا باعث بنی‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

7 دسمبر 1941 کی صبح جاپانی جنگی طیاروں کے دستے نے بحرالکاہل میں پرل ہاربر میں امریکی اڈے پر حملہ کرنا شروع کر دیا۔ یہ حملہ امریکا اور جاپان کے درمیان کئی مہینوں کے تنازعات کے بعد سامنے آیا۔ علاوہ اس حملے کے نتیجے میں کم از کم دو ہزار امریکی فوجی مارے گئے اور امریکی فوجی جہازوں اور ہوائی جہازوں کی ایک خاصی تعداد تباہ ہو گئی جو حملے کے وقت پرل ہاربر میں موجود تھے۔

اگلے دنوں کے دوران جاپانی افواج نے فلپائن، ایک امریکی کالونی، انڈوچائنا کی فرانسیسی کالونی، برطانوی سنگاپور میں مداخلت کی۔ جاپان انہیں اپریل 1942 تک مکمل طور پر زیر کرنے میں کامیاب ہوگیا۔

بحرالکاہل میں ان فوجی کارروائیوں کے دوران جاپانیوں نے ہزاروں برطانوی، فرانسیسی، ولندیزی اور امریکی فوجیوں کو گرفتار کر لیا جنہیں جاپانیوں کے لیے سخت مشقت کرنے پر مجبور کرنے سے پہلے حراستی مراکز میں لے جایا گیا۔

جاپان کے قبضے میں موجود اتحادی فوجی
جاپان کے قبضے میں موجود اتحادی فوجی

برطانوی جہاز

ان قیدیوں کو اپنےزیرقبضہ زمینوں میں کام کرنے کی جگہوں پر لے جانے کے لیے جاپانیوں نے بڑے مال بردار بحری جہازوں کا استعمال کیا جو ان ہزاروں لوگوں کو لے کر دوسرے مقامات پر پہنچے۔ انہیں بحرالکاہل میں سفر کے مشکل حالات برداشت کرنا پڑے۔ انہیں خوراک کی شدید قلت تھی اور بیماروں کے علاج کے لیے کوئی انتظام نہیں تھا۔ ان قیدیوں کو سمندری راستے سے لے جانے کا عمل خطرے سے بھرا ہوا تھا۔ سفر کے دوران ان جہازوں پر جاپانی جھنڈا لہرایا گیا مگر ان میں موجود لوگوں کے لیے مناسب تحفظ کا فقدان تھا۔ اس کی وجہ سے یہ بحری جہاز امریکی اور برطانوی آبدوزوں کے لیے ایک جائز ہدف بن گیا۔ امریکی اور برطانوی فوجیں اکثر یہ جاننے سے قاصر رہتیں کہ بحری جہاز پر کیا لادا گیا ہے۔ وہ اندھا دھند بمباری کرتیں۔

جاپانی قیدیوں کی نقل و حمل کے بحری جہازوں میں سے ایک کا نام تاریخ میں Jun'yō Maru ملتا ہے۔ اس جہاز کو برطانوی آبدوز نے نشانہ بنایا جو سمندر میں گہرائی میں ڈوب گیا اور اس پرسوار ہزاروں افراد بھی لقمہ اجل بن گئے۔

جونیو مارو 1913 میں گلاسگو سکاٹ لینڈ میں ایک شپ یارڈ میں بنایا گیا تھا۔ ڈیزائن کے مطابق اس جہاز کا وزن 5 ہزار ٹن لگایا گیا تھا جب کہ اس کی لمبائی 123 میٹر تھی۔ متعدد برطانوی جہاز رانی کے اداروں کے لیے برسوں کی خدمات کے بعد جونیو مارو کو 1926 میں جاپانیوں کو فروخت کیا گیا جنہوں نے اسے امپیریل نیوی کے اختیار میں رکھنے سے پہلے یہ نام دیا۔

5600 افراد کی موت

دوسری جنگ عظیم کے دوران جاپانیوں نے جونیو مارو کو عجلت میں بانس لٹھوں سے مزید بڑا کیا تاکہ اسے مزید قیدیوں کو لے جانے کے قابل بنایا جا سکے۔ ستمبر 1944 کے وسط میں جاپانیوں نے انڈونیشیا کے جزیرے جاوا سے ہزاروں ڈچ، برطانوی، امریکی، آسٹریلوی اور جاوانی قیدیوں کو جونیو مارو نامی بحری جہاز پر سوار کر کے سماٹرا منتقل کرنے کے مقصد سے ریلوے پر کام کرنے کے لیے بھیجا۔ ان کی منزل پیکن بارو اور مورو کے علاقے تھی۔

جہاز رانی کے صرف 48 گھنٹے بعد جاپانی پرچم والے جونیو مارو کو 18 ستمبر 1944 کو برطانوی آبدوز HMS Tradewind کے ذریعے لانچ کیے گئے تارپیڈو کے ذریعے سمندر میں نشانہ بنایا گیا۔ کچھ ہی دیر میں جاپانی مال بردار جہاز بحر الکاہل کی تہہ میں ڈوب گیا، جس سے تقریباً 70 برطانوی اور امریکیوں کے علاوہ 5,600 سے زیادہ افراد ہلاک ہو گئے جن میں 4,200 جاوانی اور 1,377 ڈچ شامل تھے۔

بعد ازاں جاپانی بحری جہاز تقریباً 600 افراد کو بچانے میں کامیاب ہوئے جنہیں بعد میں جبری مشقت کی جگہوں پر لے جایا گیا جہاں انہیں سخت حالات میں کام کرنے پر مجبور کیا گیا۔اس دوران انہیں خوراک اور پینے کے پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑا.

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں