امریکی بحریہ نے یمن کے راستے پرایران سے ’دھماکا خیزمواد‘لے جانے والا جہازروک لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی بحریہ نے 40 ٹن کھاد لے جانے والے ایک جہاز کوبین الاقوامی پانیوں میں روک لیا ہے۔اس کھاد کو دھماکا خیزمواد کی تیاری میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔اس جہاز کو ایران سے اسی بحری راستے سے لے جایا جارہا تھا جو اس سے قبل یمن میں ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کو ہتھیار اسمگل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

امریکی بحریہ نے اتوار کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ اس نے جہازپر سوار ہوکر اس کی مکمل تلاشی لی ہے۔اسی جہاز کو گذشتہ سال ہزاروں ہتھیار لے جاتے ہوئے پکڑا گیا تھا اور منگل کے روز خلیج عمان میں بین الاقوامی پانیوں میں جہاز کو روکنے کے بعد اسے یمن کے ساحلی محافظوں کے حوالے کردیا گیا تھا۔

ایک امریکی گائیڈڈ میزائل جنگی جہازاور گشت کرنے والے جہاز نے ایران سے نقل وحمل کرنے والےاس بے ریاست بحری جہاز کوروکا تھا۔ بحرین میں موجود امریکا کے پانچویں بحری بیڑے نے کہا کہ تاریخی طور پر یمن میں حوثیوں کو ہتھیاروں کی آمدورفت کے لیے استعمال ہونے والے راستے پریہ جہاز سفر کررہا تھا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی فورسز نے جہاز سے 40 ٹن (36,300 کلو) یوریا کھاد برآمد کی ہے۔یہ زرعی مقاصد کے استعمال کے لیے ایک کیمیائی مرکب ہے مگراس کودھماکا خیز مواد کی تیاری میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔

امریکی بحریہ نے اس چھوٹے بحری جہاز پر قبضہ حوثیوں کے ابوظبی پر ڈرون اور میزائل حملے کے بعد خطے میں جاری شدید کشیدگی کے وقت کیا ہے۔ابوظبی پر ڈرون حملے کے ردعمل میں عرب اتحاد نے گذشتہ ہفتے یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں پرمتعدد فضائی حملے کیے تھے۔

امریکی بحریہ کا کہنا ہے کہ ’’ماہی گیری کے لیے استعمال ہونے والے اسی بے ریاست جہاز‘‘سے گذشتہ سال فروری میں روکے جانے پر ہزاروں اے کے 47 آتشیں رائفلیں، راکٹ سے چلنے والے دستی بم اوردیگر ہتھیاربرآمد ہوئے تھے۔

عرب اتحاد اوراس کے امریکا سمیت اتحادی ممالک ایران پرحوثی ملیشیا کو فوجی امداد مہیا کرنےکے الزامات عاید کرتے رہتے ہیں جبکہ ایران ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں