ایران میں انسانی حقوق کی علمبردارخاتون کو آٹھ سال قید اور کوڑوں کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران میں ایک عدالت نے انسانی حقوق کی علمبردار اور صحافیہ نرجس محمدی کو آٹھ سال قید اور 70 سے زیادہ کوڑوں کی سزا سنائی ہے۔انھیں گذشتہ سال نومبر میں اچانک بلاوارنٹ گرفتارکیا گیا تھا۔

اتوار کے روز فرانس میں مقیم ان کے شوہر تقی رحمانی نے عدالت کے اس فیصلے کی اطلاع دی ہے۔ انھوں نے ٹویٹرپر لکھا کہ عدلت نے صرف پانچ منٹ تک جاری رہنے والی سماعت کے بعد ان کی اہلیہ کو سزا سنادی ہے۔اس فیصلے اورنرجس محمدی کے خلاف مقدمے دونوں کی تفصیل ابھی تک واضح نہیں۔

نرجس محمدی ایران کی نوبل امن انعام یافتہ انسانی حقوق کی علمبردارشیریں عبادی کی ساتھی ہیں۔انھیں ایرانی حکام نے گذشتہ چند سال کے دوران میں متعدد بار گرفتار کرکے جیل میں ڈالا ہے۔

انھیں اکتوبر2020ء میں جیل سے رہا کیا گیا تھا لیکن پھرنومبر2021ء میں اچانک تہران کے نواح میں واقع کاراج میں ایک تعزیتی تقریب سے گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ اس وقت نومبر2019ء میں ملک گیرمظاہروں میں ہلاک شدہ ایک شخص کی یادمیں منعقدہ تقریب میں شریک تھیں۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس وقت نرجس محمدی کی گرفتاری کو’’غیرقانونی اور امتیازی‘‘قرار دیا تھا ،انھیں ضمیر کی قیدی قراردیا تھا اور کہا تھا کہ انھیں صرف انسانی حقوق کی پرامن سرگرمیوں کی پاداش میں نشانہ بنایا گیا تھا۔

نرجس محمدی طویل عرصے سے ایران میں سزائے موت کے استعمال کے خلاف مہم چلا رہی ہیں۔اپنی حالیہ گرفتاری سے قبل اپنے پیاروں کے لیے انصاف کے خواہاں خاندانوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی تھیں۔ان کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ ان افراد کو2019ء کے مظاہروں میں سکیورٹی فورسز نے قتل کیا تھا۔

جیل سے باہر رہتے ہوئے بھی انھیں مئی 2021 میں ایران کے اسلامی نظام کے خلاف ’’پروپیگنڈے‘‘کے الزام میں 80 کوڑوں اور 30 ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

پچاس سالہ نرجس محمدی دفاع انسانی حقوق مرکزکی خاتون ترجمان ہیں۔انسانی حقوق کی اس تنظیم پرایران میں پابندی عاید ہے اور اس کے کارکنان بیرون ملک سرگرم ہیں۔اسی تنظیم کی شریک بانی ڈاکٹرشیریں عبادی کو 2003ء میں امن کا نوبل انعام دیا گیا تھا۔

نرجس محمدی کو قبل ازیں ایران کی ایک عدالت نے مختلف الزامات میں قصور وار قرار دے کر10 سال قید کی سزا سنائی تھی۔البتہ انھیں پانچ سال قید بھگتنے کے بعد اکتوبر 2020ء میں جیل سے رہا کردیا گیا تھا اور ان کی سزائے قید کم کردی تھی۔

ایران میں طویل سزا کاٹنے والی نسانی حقوق کی ایک اور محافظ انعام یافتہ وکیل نسرین ستودہ ہیں۔وہ ایرانی خواتین کے حجاب پہننے کے تقاضے کے خلاف احتجاج کرنے پر گرفتارخواتین کا دفاع کرتی رہی ہیں۔اگرچہ فی الحال وہ طبی رخصت پرجیل سے باہر ہیں لیکن ان کے حامیوں کوخدشہ ہے کہ انھیں جلد ہی دوبارہ جیل میں ڈال دیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں