ترک صدر کی مبینہ "توہین" کی پاداش میں خاتون صحافی کو جیل بھیج دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

ترکی کی ایک عدالت نے کل ہفتے کے روز پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر میں گواہی دینے کے بعد ترک صدر رجب طیب ایردوآن کی توہین پر صحافی صدف کاباش کو قید کرنے کا حکم دیا ہے۔

ترک میڈیا کے مطابق تُرک حکام نے صحافی کو ایک ٹیلی ویژن پروگرام میں ترک صدر کے بارے میں بیان دینے کی وجہ سے گرفتار کیا تھا۔

ترک صحافیہ کی طرف سے مبینہ توہین آمیز الفاظ اپوزیشن ٹیلی ویژن چینل کے ساتھ انٹرویو میں کی گئی، جہاں اس نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر اسے پوسٹ کرتے ہوئے حکومتی محل کے لیے گودام کی مشابہت کی مثال استعمال کی۔

ترک صحافیہ صدف كاباش
ترک صحافیہ صدف كاباش

صدر کی توہین پر قانون کے تحت ملزم کو ایک سے چار سال کے درمیان قید کی سزا کا سامنا ہے۔

"صدر کی توہین ایک آلہ ہے"

ترکی کے پبلک پراسیکیوٹر نے 2014 سے 2019 کے درمیان کل 128,872 شہریوں کے ساتھ صدر رجب طیب ایردوآن کی "توہین" کرنے پر تحقیقات شروع کیں۔ توہین کے الزام میں تقریباً 27,717 مقدمے دائر کیے گئے۔

اسی طرح مخالفین کا کہنا ہے کہ صدر جمہوریہ کی توہین کے الزام میں بھی لوگوں کو گرفتار کیا جاتا اور انہیں سزائیں دی جاتی ہیں۔ توہین ایک آلہ ہے جسے صدرکے مخالفین کو انتقام کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں