خولانی کافی کی کاشت کرنے والے سعودی کاشت کار اور اس کے بیٹے کی کہانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے جنوب میں واقع گاؤں الہدیدہ کا کاشت کار سلمان الحریصی اور اس کا بیٹا اپنے خولانی کافی کے کھیتوں میں روزانہ صبح کام شروع کرنے سے قبل اللہ تعالی کے حضور دعا کے خاص الفاظ ادا کرتے ہیں۔ خولانی کافی یمن میں کافی کی مشہور قسم ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان نے بتایا کہ وہ ملازمت کے سبب زراعت اور اپنے گاؤں سے دور رہا۔ تاہم ریٹائرمنٹ کے بعد وہ جبال الحشر کے علاقے میں واپس اپنے گھر آ گیا۔ یہاں سے اس نے اپنے باپ دادا کے کھیت میں کاشت کاری شروع کر دی۔ سلمان اور اس کے بیٹے کو کاشت کاری کرتے ہوئے پانچ برس کے قریب گزر چکے ہیں۔

سلمان کے مطابق نئی نسل کو زراعت کا پیشہ منتقل کرنے کو یقینی بنانے کے لیے کاشت کاروں کو اپنے بیٹوں کو ساتھ شریک کرنا چاہیے۔ جبال الحشر میں زیادہ تر کھیت نئی نسل کو منتقل ہو چکے ہیں۔سلمان نے بتایا کہ کھیت میں کام کے دوران وہ بہت سے اشعار پڑھتے ہیں۔ ہر کاشت کے حوالے سے علاحدہ کلام ہوتا ہے۔ ابتدا میں کاشت موسمی ہوتی تھی جن میں گندم اور جو وغیر شامل تھے۔

بعد ازاں نو برس قبل کافی کا میلہ شروع ہونے کے ساتھ ہی سلمان نے خولانی کافی کی کاشت بھی شروع کر دی۔ اس میں توسیع ہوتی چلی گئی۔ یہاں تک کہ اب سلمان کے کھیت میں کافی کے 1000 پودے ہیں۔

خولانی کافی کی کاشت کے حوالے سے سلمان نے بتایا کہ اس کے پیڑوں کی کاشت سال کی ابتدا یا وسط میں ہوتی ہے۔ اس کے بعد سال کے اواخر کے دوران میں کاشت حاصل کی جاتی ہے۔ بعد ازاں خشک کیے جانے اور چھلکا اتارے جانے کا مرحلہ آتا ہے۔ الہدیدہ کے کھیت میں کافی کے 734 درخت ہیں جن سے سالانہ 1500 کلو گرام کافی پیدا ہوتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں