مجھے اسلامی عقیدے کے سبب برطرف کیا گیا: سابق برطانوی خاتون وزیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانوی پارلیمنٹ میں کنزرویٹو پارٹی کی خاتون رکن اور سابق وزیر مملکت برائے ٹرانسپورٹ نصرت غنی کا کہنا ہے کہ انہیں 2020ء میں ان کے اسلامی عقیدے کے سبب وزارتی منصب سے برطرف کیا گیا۔

نصرت نے یہ بات برطانوی اخبار "سنڈے ٹائمز" کے ساتھ گفتگو میں کہی۔ یہ گفتگو ہفتے کے روز اخبار میں شائع ہوئی۔ پاکستانی نژاد نصرت غنی کی عمر 49 برس ہے۔ انہیں فروری 2020ء میں وزیر اعظم بورس جانسن کے زیر قیادت کنزرویٹو پارٹی کی حکومت میں وزارتی سطح پر محدود ترامیم میں وزیر مملکت برائے ٹرانسپورٹ کے عہدے سے فارغ کر دیا گیا تھا۔

پارلیمنٹ میں انضباطی امور کے ایک ذمے دار نے نصرت غنی کو اس وقت آگاہ کیا تھا کہ ان کے اسلامی عقیدے کو ڈاؤننگ اسٹریٹ پر حکومتی صدر دفتر میں اجلاس کے دوران ایک قضیے کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔

نصرت کے مطابق مذکورہ ذمے دار نے بتایا کہ نصرت کے مسلم وزیر ہونے کے باعث ان کے ساتھی عدم اطمینان کا شکار تھے۔

برطانوی رکن پارلیمنٹ نے اس امر پر صراحت سے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "میں نے اس حوالے سے اہانت اور کمزوری محسوس کی"۔

نصرت نے خاموشی اختیار کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ وہ خبردار تھیں کہ اس معاملے پر بات کرنے کا سلسلہ جاری رکھنے پر انہیں اپنے ساتھیوں کی جانب سے تنہائی کا سامنا کرنا پڑتا۔ یہ امر ان کی پیشہ ورانہ زندگی اور ساکھ کو نقصان پہنچائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں