یوکرین سے اپنے شہریوں کے انخلا کے لیے پروازوں کا بندوبست نہیں کریں گے : امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی وزارت خارجہ نے ہفتے کے روز ایک اعلان میں بتایا کہ وہ یوکرین سے اپنے شہریوں کو نکالنے کے انتظامات کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی ہے۔ اس حوالے سے امریکی شہریوں کو آزادی دی گئی ہے کہ وہ روس کے ممکنہ حملے کے اندیشے کے پیش نظر تجارتی پروازوں کے ذریعے یوکرین چھوڑ سکتے ہیں۔

اس سے قبل امریکی انتظامیہ نے اپنے شہریوں کو ہدایت دی تھی کہ وہ یوکرین کا رخ نہ کریں۔ ساتھ ہی آگاہ کیا گیا تھا کہ ایسی معلومات موجود ہیں کہ روس یوکرین کے خلاف ایک بڑی فوجی کارروائی کی تیاری کر رہا ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کی خاتون ترجمان کا کہنا تھا کہ "یوکرین میں امریکی سفارت کاروں اور ان کے اہل خانہ کی موجودگی کے حوالے سے ہمارے موقف میں تبدیلی کی صورت میں امریکیوں کو حکومت کی جانب سے انخلاء کی کارروائیوں پر انحصار نہیں کرنا چاہیے۔ اس وقت تجارتی پروازیں جاری ہیں جن کے ذریعے کوچ کیا جا سکتا ہے"۔

اس سے قبل امریکی ذمے داران نے فوکس نیوز کو بتایا تھا کہ اس بات کی توقع ہے کہ وزارت خارجہ آئندہ ہفتے میں امریکیوں کی حوصلہ افزائی کرے گی کہ وہ تجارتی پروازوں کے ذریعے یوکرین سے کوچ کا عمل شروع کر دیں۔

دوسری جانب امریکی ذمے داران کا کہنا ہے کہ یوکرین کے دارالحکومت کیوو پہنچنے والا چھوٹے ہتھیاروں کا ذخیرہ لڑائی کے لیے اُس امداد کا بڑا حصہ ہے جس کو وزارت خارجہ نے یوکرین کے فوجیوں کے لیے لڑائی کے واسطے ضروری قرار دیا ہے۔ مزید یہ کہ توقع ہے کہ ٹینک شکن میزائل "جیولین" آئندہ ہفتے میں یوکرین پہنچ جائیں گے۔

ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ امریکی صدر جو بائیڈن یوکرین کا بحران زیر بحث لانے کے لیے کیمپ ڈیوڈ میں اپنی سیکورٹی ٹیم سے ملاقات کریں گے۔

یوکرین میں امریکی سفارت خانے نے ہفتے کے روز اعلان کیا تھا کہ کیوو کو سیکورٹی سپورٹ کی مد میں امریکی امداد کی پہلی کھیپ موصول ہو گئی ہے۔ اس کی مالیت 20 کروڑ ڈالر ہے۔

واضح رہے کہ یوکرین 2014ء سے دونباس میں روس نواز باغیوں کے ساتھ لڑائی میں مصروف ہے۔ اس حوالے سے فائر بندی کے پے درپے سمجھوتوں کے باوجود علاقے میں امن کی بحالی میں کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں