اوسلو:طالبان سے مذاکرات؛مغربی سفارت کاروں کی افغان کارکنوں سے ملاقاتیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

مغربی سفارت کار یورپ میں طالبان کے ساتھ پہلے باضابطہ مذاکرات سے قبل ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں افغان خواتین کے حقوق کی علمبردارکارکنان اور انسانی حقوق کے کارکنوں سے ملاقاتیں کررہے ہیں۔

طالبان کا گذشتہ سال اگست میں افغانستان میں کنٹرول سنبھالنے کے بعد مختلف یورپی ملکوں کے ساتھ یہ پہلا براہ راست ٹاکراہے۔اوسلو میں اس موقع پرافغانستان کی سول سوسائٹی اور افغان تارکین وطن کے نمایندوں نے مغربی سفارت کاروں کواپنے مطالبات اور جنگ زدہ ملک کی زمینی صورت حال سے آگاہ کیا ہے۔

اس ملاقات میں یورپی یونین، امریکا، برطانیہ، فرانس، اٹلی اور میزبان ناروے کے نمائندوں نے شرکت کی ہے۔اوسلو میں تین روزہ مذاکرات کا آغاز اتوار کو طالبان اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کے درمیان براہ راست ملاقاتوں سے ہوا تھا۔

پہلے روز کے مذاکرات کے بعد افغان نائب وزیرثقافت و اطلاعات ذبیح اللہ مجاہد نے ٹویٹ کیے گئے ایک مشترکہ بیان میں کہا:’’اجلاس کے شرکاء نے تسلیم کیا کہ افغانستان کے تمام مسائل کا واحد حل افہام و تفہیم اور مشترکہ تعاون میں مضمرہے‘‘اوراس بات پرزوردیا کہ’’تمام افغانوں کو ملک میں بہتر سیاسی، اقتصادی اور سلامتی کے نتائج کے لیے مل جل کر کام کرنے کی ضرورت ہے‘‘۔

آج پیر کو مغربی سفارت کار طالبان کے نمائندوں سے دوبارہ ملاقات کرنے والے تھے۔توقع ہے کہ اس میں طالبان اپنے اس مطالبے پر زور دیں گے کہ امریکا اور دیگر مغربی ممالک افغانستان کے منجمد کردہ قریباً 10ارب ڈالر کے اثاثے جاری کریں کیونکہ ملک کواس وقت غیریقینی انسانی صورت حال کا سامنا ہے اور بروقت مالی وسائل مہیا نہ ہونے کی صورت میں ایک بڑا انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔

طالبان کے مندوب شفیع اللہ اعظم نے کہا:’’ہم ان سے درخواست کررہے ہیں کہ وہ افغان اثاثے غیرمنجمدکریں اور سیاسی گفتگو کی وجہ سے عام افغانوں کو سزا نہ دیں۔مہلک موسم سرما اور بھوک کی وجہ سے میں سمجھتا ہوں کہ اب وقت آگیا ہے کہ عالمی برادری افغانوں کی حمایت کرے،ان کے سیاسی تنازعات کی وجہ سے انھیں سزا نہ دے‘‘۔

حال ہی میں اقوام متحدہ کے ذریعے افغانستان کو کچھ رقوم مہیا کی گئی ہیں اور طالبان انتظامیہ کو بجلی سمیت درآمدات کی رقوم ادا کرنے کی اجازت دے گئی ہے لیکن اقوام متحدہ نے خبردارکیا ہے کہ دس لاکھ افغان بچوں کےبھوک سے مرنے کا اندیشہ ہے اور ملک میں تین کروڑ80 لاکھ افراد میں سے زیادہ ترغُربت کی لکیر سے نیچے کی زندگی گزار رہے ہیں۔

اوسلومذاکرات میں طالبان کی جانب سے فنڈز کی درخواست کے جواب میں مغربی طاقتیں افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کو اپنے ایجنڈے میں شامل کرسکتی ہیں۔اس کے علاوہ مغرب طالبان انتظامیہ سے افغانستان کے اقلیتی نسلی اور مذہبی گروہوں کو اقتدار میں شامل کرنے کا بھی باربارمطالبہ کررہا ہے۔

طالبان نے دوبارہ برسراقتدار آنے کے بعد سے خواتین پر مختلف نوعیت کی پابندیاں عاید کی ہیں۔ان پر صحت اور تعلیم کے شعبوں سے باہردوسرے محکموں میں بہت سی ملازمتوں پر پابندی عاید کر دی گئی ہے، ان کی تعلیم تک رسائی چھٹی جماعت سے آگے محدود کردی گئی ہے اور انھیں حجاب پہننے کا حکم دیا گیا ہے۔ تاہم طالبان نے اس مرتبہ اپنی ماضی کی حکومت کے برعکس مکمل برقع کی سخت پابندی عاید نہیں کی ہے۔

طالبان نے افغانستان کے پریشان حال انسانی حقوق کے گروپوں کے ساتھ ساتھ صحافیوں کوبھی تیزی سے نشانہ بنایا ہے اور بعض اوقات مظاہروں کی کوریج کرنے والے ٹیلی ویژن کےعملہ کو حراست میں لیا اور مارا پیٹا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں