ایران کی خارجہ پالیسی نئے دور میں داخل ہوگئی ہے:مشیر خامنہ ای

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایران کے رہبر اعلیٰ [سپریم لیڈر] آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر نے ابراہیم رئیسی کی حکومت کی اختیار کردہ "مشرق کی سمت" کی پالیسی اور چین اور روس کے ساتھ طویل مدتی معاہدوں پر کے پس منظر کے خلاف ایران کے اندر وسیع پیمانے پر تنقید کی لہر کا جواب دیا ہے۔

خامنہ ای کے اعلیٰ عسکری مشیر میجر جنرل یحییٰ رحیم صفوی نے کہا کہ "ایران کی خارجہ پالیسی میں ایک نئے دور کا آغاز ہو گیا ہے"۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ چین اور روس کے ساتھ تعاون کی پالیسی نے مغربی دشمنوں اور علاقائی حریفوں کو ناراض کر دیا ہے۔

ایرانی پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈر صفوی پیر کی صبح "ایران اور اس کے ہمسایہ ممالک" کے عنوان سے ایک کانفرنس کے افتتاح کے دوران گفتگو کر رہے تھے۔

صفوی نے دعویٰ کیا کہ "ایران کی خارجہ پالیسی میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا ہے"۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ "مشرق کے ساتھ تعاون اور چین اور روس کے ساتھ جامع ترقی کی پالیسی نے مغربی دشمنوں، علاقائی حریفوں اور ملک کے اندر موجود بعض عناصر کو حیران اور پریشان کر دیا ہے۔"

صفوی جو اسلامی دنیا کے مستقبل پر تحقیق کے مرکز کے سربراہ بھی ہیں نے مزید کہا کہ پندرھویں صدی ہجری کے موقع پر اور اسلامی انقلاب کی فتح کا جشن مناتے ہوئے ایران ایک ناقابل تردید علاقائی طاقت بن گیا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایران اگلے 20 سالوں میں 15 ہمسایہ ممالک میں سے ہر ایک کے ساتھ سیاسی، اقتصادی، سیکیورٹی، سیاحت، علمی اور ماحولیاتی ترقی کے لیے حکمت عملی کی منصوبہ بندی کرنا چاہتا ہے۔

ایران کی وزارت خارجہ میں "سینٹر فار پولیٹیکل اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز" کے زیراہتمام "اسلامی دنیا میں مستقبل کے مطالعہ کی بنیاد" کےعنوان سے منعقدہ کانفرنس سے خطاب میں جنرل صفوی نے ایران کی پڑوسی ملکوں اور خارجہ پالیسی پر بات کی۔

پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان، ایرانی وزیر داخلہ احمد وحیدی، اور ایرانی وزیر اقتصادیات احسان خاندوزی بھی اس کانفرنس میں خطاب کریں گے۔ اس میں اس میں "ایران اور ہمسایہ پالیسی"، "علاقائی امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ سیکیورٹی انتظامات" کے ساتھ پڑوسی ممالک کے ساتھ سائنسی ، ثقافتی ،تہذیبی تجارتی امور پر بھی بات کی جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں