خلیجی معیشتوں میں 2022ء میں تیزی سے ترقی متوقع، تیل کی قیمتوں میں کمی بڑا خطرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

چھے رکنی خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کی معیشتیں کئی سال کے بعد 2022ء میں تیزرفتاری سے ترقی کریں گی۔خلیجی معیشتوں کا ایک بڑا عامل خام تیل کی قیمتیں ہیں اور یہ گذشتہ بدھ کے روز2014ء کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھیں۔اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات اور روس سمیت تیل کے بڑے پیدا کنندہ ممالک کے ساتھ عالمی سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔اس سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی رسد متاثرہوسکتی ہے۔

برطانوی خبررساں ایجنسی رائٹرز نے 25معاشی ماہرین سے 11 سے 19جنوری تک سروے کیا ہے۔اس میں انھوں نے پیشین گوئی کی ہے کہ خلیج تعاون کونسل کی تمام چھے معیشتیں اس سال تین ماہ قبل کی توقع سے زیادہ تیزی سے ترقی کریں گی۔

سعودی عرب کی شرح نمو5.7 فی صد رہنے کی پیشین گوئی کی گئی تھی۔اس کے بعد کویت اور متحدہ عرب امارات بالترتیب 5.3 فی صد اور 4.8 فی صد شرح نمو کے ساتھ دوسرے اور تیسرے نمبر پرہیں۔

توقع کی جارہی تھی کہ 2022ء میں قطر،عمان اور بحرین میں اقتصادی نمواوسطاً تین سے چار فی صد کے درمیان رہے گی۔اگر یہ شرح اتنی ہی رہتی ہے تو یہ ان ممالک کی گذشتہ چند سال میں بہترین شرح نمو ثابت ہوگی۔

الامارات این بی ڈی کے شعبہ تحقیق کی سربراہ اور چیف اکانومسٹ خطیبہ حق نے کہا کہ نسبتاً سخت مالیاتی پالیسی اور کچھ بیرونی سرگرمیاں ہونے کے باوجود ہم توقع کرتے ہیں کہ جی سی سی معیشتوں میں 2022 میں تیزی سے ترقی دیکھنے کو ملے گی کیونکہ وہ گذشتہ سال ہونے والی پیش رفت پراپنی بڑھوتری جاری رکھے ہوئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’’اگرچہ 2022ء کا منظرنامہ وسیع پیمانے پرخوش نما ہے لیکن خاص طور پرکروناوائرس کی وبا کے حوالے سے ابھی بہت زیادہ غیر یقینی صورت حال ہے۔عالمی معیشت چونکہ مستقل افراط زرکے امکان سے نمٹتی ہے جبکہ خطے میں قیمتوں میں اتارچڑھاؤ معمولی تھا لیکن متنوع تھا‘‘۔

جی سی سی ملکوں میں رواں سال افراطِ زرکی شرح 2.0 فی صد سے 2.8 فی صد کے درمیان رہنے کی توقع تھی۔ متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور عمان میں سب سے کم شرح 2.0 فی صد اور قطر میں سب سے زیادہ 2.8 فی صد رہی ہے۔

دنیا میں سب سے زیادہ خام تیل برآمد کرنے والاملک اور خطے کی بڑی معاشی اور سیاسی طاقت سعودی عرب میں رواں سال 5.7 فی صد کی شرح سے اقتصادی ترقی متوقع ہے۔اگرایسا ہوتا ہے تو یہ 2012 کے بعد سب سے تیزرفتار نمو ہوگی۔تب تیل کی اوسط قیمت111 ڈالر فی بیرل کے لگ بھگ تھی۔

عالمی تجارتی مرکز اور جی سی سی کی دوسری سب سے بڑی معیشت متحدہ عرب امارات میں رواں سال شرح نمو میں4.8 فی صد اضافے کی پیشین گوئی کی گئی ہےجو 2015 کے بعد سب سے تیزرفتار ہے۔

ایک اضافی سوال کا جواب دینے والے دس میں سے نو ماہرین معاشیات نے کہا کہ تیل کی قیمتوں میں کمی اور کووِڈ-19 کی نئی شکلیں اس سال جی سی سی کی اقتصادی ترقی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔

آئی ایچ ایس مارکیٹ میں اکنامکس ٹیم کے سربراہ رلف ویگرٹ نے خبردارکیا کہ تیل کی قیمتوں میں کمی کا اندیشہ اب بھی جی سی سی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے جبکہ وہ تیل کی رسد میں خلل ڈالنے سمیت عالمی ترقی میں کردارادا کرتی رہے گی لیکن شاید جی سی سی معیشتوں کے لیے یہ زیادہ اہم نہیں ہے۔

بعض ماہرین کا کہنا تھا کہ جی سی سی کی جانب سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی ترسیل جی ڈی پی کی نمو کے لیے اہمیت کی حامل ہے اوریہ 2022 میں تیل کی مضبوط عالمی طلب کے مفروضے پر منحصر ہے‘‘۔دس میں سے آٹھ جواب دہندگان نے بتایا کہ ان کی ترقی کی پیشین گوئیوں سے متعلق خطرات منفی پہلو کی طرف رجحان کی غمازی کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں