سعودی عرب اور امارات پر حوثیوں کے حملے سنگین جارحیت ہے: امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس کا کہنا ہے کہ صدر جو بائیڈن حوثی ملیشیا کو دوبارہ سے دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کا جائزہ لے رہے ہیں۔

پیر کے روز ایک پریس کانفرنس میں پرائس نے باور کرایا کہ امارات اور سعودی عرب حوثی باغیوں کے حملے سنگین جارحیت ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق اُن کا ملک ایران کی جانب سے حوثیوں کے لیے پیش کی جانے والی سپورٹ کے حجم کی جان کاری رکھتا ہے۔

اس سے قبل واشنگٹن میں امارات کے سفیر یوسف العتیبہ نے ایک بار پر امریکا پر زور دیا کہ وہ حوثی ملیشیا کو دوبارہ سے "غیر ملکی دہشت گرد تنظیم" کا درجہ دے۔

پیر کے روز امریکا میں اماراتی سفارت خانے کے ٹویٹر اکاؤنٹ پر العتیبہ نے کہا کہ متحدہ عرب امارات اور امریکا کے قریبی تعاون سے آج صبح حوثیوں کے دہشت گردی کے ایک اور حملے کو روکنے میں مدد ملی ہے۔

اماراتی سفیر نے اپنے ملک کی جانب سے امریکا سے ایک بار پھر مطالبہ کیا ہے کہ ایران کے حمایت یافتہ یمنی حوثیوں کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا جائے۔

یمن میں آئینی حکومت کے حامی عرب اتحاد کی فوجی کمان نے گذشتہ روز تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب کے جنوبی شہر جازان کی سمت بھیجا جانے والا بارودی ڈرون طیارہ تباہ کر دیا گیا۔ یہ طیارہ دہشت گرد حوثی ملیشیا نے شہریوں اور شہری مقامات کو نشانہ بنانے کے لیے بھیجا تھا۔

عرب اتحاد کے مطابق شہریوں اور شہری مقامات کے تحفظ کے لیے خطرے کے ذرائع کے ساتھ نمٹنے کے واسطے مطلوب تمام اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ یہ اقدامات بین الاقوامی انسانی قانون سے مطابقت رکھتے ہیں۔

عرب اور مغربی ممالک کے علاوہ بین الاقوامی فریقوں کی جانب سے پیر کے دہشت گرد حوثی ملیشیا کی طرف سے سعودی عرب اور امارات میں شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کی مذمت کی گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں