شام میں الحسکہ جیل پر داعش کے حملے کا ذمے دار کون ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

گذشتہ ہفتے شام کے شمال مشرقی صوبے الحسکہ میں غویران جیل پر داعش تنظیم کے دہشت گرد حملے کے اثرات کا سلسلہ جاری رہے۔ یہ ایک منظم حملہ تھا جس نے اُس خطرناک ترین علاقے پر روشنی ڈالی جہاں داعش تنظیم آج بھی قدم جمائے ہوئے ہے۔

غویران دنیا بھر میں داعش تنظیم کے عناصر کی سب سے بڑی جیل ہے۔ گذشتہ عرصے میں سیرین ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) اس نوعیت کے بحرانات کے خطرات سے بہت زیادہ خبردار کرتی رہی ہے۔ ایس ڈی ایف یہ باور کرا چکی ہے کہ جیل کے سخت پہرے کے باوجود وہ اس کے ساتھ نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتی ہے۔

برطانوی اخبار "دی ٹائمز" کی رپورٹ کا کہنا ہے کہ جو کچھ ہوا اس کی وجہ مغربی ممالک کا دہشت گردوں کی جیلوں کے خطرے کو نظر انداز کرنا ہے۔ تاہم الحسکہ کے حملے کے بعد اب ان کے لیے اسی غلطی کا ارتکاب ممکن نہیں رہا۔

اخبار کے مطابق سیرین ڈیموکریٹک فورسز کے قبضے میں 12 ہزار قیدی ہیں۔ ان میں کم از کم 2000 غیر ملکی ہیں۔ علاوہ ازیں پہرے کے ساتھ پناہ گزینوں کے کیمپوں میں 70 ہزار خواتین اور بچے موجود ہیں۔

اخبار کے نزدیک برطانیہ اور اس کے ساتھ دیگر یورپی ممالک نے پیٹھ موڑ لی اور داعش کے شدت پسندوں اور ان کے اہل خانہ یا بیواؤں کو عدالتی کارروائی کے لیے بھی اپنے اصل ملکوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی۔

اخبار نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدام کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا کہ انہوں نے 2019ء کے اواخر میں 2000 فوجیوں پر مشتمل امریکی زمینی فورس کا نصف حصہ واپس بلا لیا۔ یہ فورسز مشرقی شام م یں ایس ڈی ایف کے زیر کنٹرول علاقے کی پہرے داری میں مدد کرتی ہے۔

اسی طرح اخبار نے شام میں کرد فورس کے زیر کنٹرول اراضی پر ترکی کی جانب سے حملوں کا سلسلہ جاری رکھنے کی طرف بھی واضح اشارہ کیا ... اور روس بھی جس نے سرحد پار اقوام متحدہ کی امداد کے داخلے کے خلاف اپنا ویٹو کا حق استعمال کیا۔

یاد رہے کہ گذشتہ جمعرات کے روز دہشت گرد تنظیم داعش نے مشرقی شام کے صوبے الحسکہ کی غویران جیل پر دھماکا خیز مواد سے بھری گاڑیوں کے ذریعے حملہ کر دیا۔ اس کے بعد وہاں شدید جھڑپیں ہوئیں۔ حملے کا مقصد جیل میں موجود داعش کے عناصر کو آزاد کرانا تھا۔

یہ جیل دنیا بھر میں داعش تنظیم کے عناصر کی حراست کا سب سے بڑا اور خطر ناک ترین مقامات میں سے ایک ہے۔

ایس ڈی ایف نے کل پیر کے روز بتایا کہ داعش تنظیم کے 300 جنگجوؤں نے ہتھیار ڈال دیے جب کہ متعدد ارکان کو حراست میں لے لیا گیا۔ ان کے قبضے سے درمیانہ اور ہلکا اسلحہ اور دستی بم برآمد ہوئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں