یوکرین کی سرحد پر ہزاروں روسی فوجی مگر امریکا مطمئن؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی وزارت دفاع "پینٹاگان" کے ترجمان جان کیربی نے باور کرایا ہے کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں جس سے یوکرین پر روسی حملے کے یقینی ہونے کا پتہ چل سکے۔

پیر کی شام ایک پریس کانفرنس میں ترجمان کا کہنا تھا کہ ان کا ملک یوکرین کی سرحد کی صورت حال پر خصوصی توجہ دے رہا ہے۔ اس کا مقصد روس کے حملے کے یقینی ہونے کے شواہد تلاش کرنا ہے تاہم ابھی تک امریکا کے سامنے کوئی ثبوت نہیں آیا ہے۔

کیربی کے مطابق صورت حال کا بہت قریب سے اور بھرپور توجہ سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ تاہم انہوں نے انکشاف کیا کہ روس کی جانب سے یوکرین کی سرحد پر فوجیوں کی تعداد میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس میں بیلا روس کی اراضی شامل ہے۔ واشنگٹن کو ابھی تک اس علاقے میں کشیدگی کم ہونے کا کوئی ثبوت نظر نہیں آ رہا۔

ادھر شمالی اوقیانوس کے اتحاد نیٹو نے مشرقی سمت اپنے دفاع کو مضبوط کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ گذشتہ مہینوں کے دوران میں امریکا اور نیٹو میں اس کے اتحادیوں نے سرحدی علاقے میں روسی فوج کی نقل و حرکت سے خبردار کیا تھا۔ دریں اثنا یہ عندیہ دیا گیا تھا کہ یوکرین کی اراضی پر کسی بھی حملے کی صورت میں روسی معیشت پر شدید پابندیاں عائد کر دی جائیں گی۔

دوسری جانب ماسکو بارہا اس بات کی تردید کر چکا ہے کہ وہ اپنے پڑوسی ملک ہر حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ روس نے یوکرین پر معاند منصوبے تیار کرنے کا الزام عائد کیا۔

واضح رہے کہ یوکرین کی فوج کو 2014ء سے سرحد پر دو علاقوں میں ماسکو کے ہمنوا علاحدگی پسندوں کی جانب سے تنازع کا سامنا ہے۔ اس سے قبل روس نے جزیرہ نما قرم کو اپنے کنٹرول میں لے لیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں