یواے ای:ابوظبی پرحوثی حملے کی ویڈیوز پوسٹ کرنے والے افرادپوچھ تاچھ کے لیے طلب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

متحدہ عرب امارات کے سرکاری استغاثہ نے ابوظبی میں یمن سے ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کوروکنے والی دفاعی فورسز کی وڈیوزسوشل میڈیا پر شیئر کرنے والے افراد کو پوچھ تاچھ کے لیے طلب کیا ہے۔

پبلک پراسیکیوشن نے وام کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں خبردارکیا ہے کہ وڈیوز’’اہم سرکاری اور فوجی تنصیبات کو خطرے میں ڈالنے کا موجب ہوسکتی ہیں اور اس سے معاشرے کی سلامتی اوراستحکام متاثر ہوگا‘‘۔

وام کے مطابق متحدہ عرب امارات کے اٹارنی جنرل حمد الشمسی نے کہا:’’ایسے مواد کو شائع کرنے والوں کے خلاف روک تھام کے قانونی اقدامات کیے جائیں گے‘‘، کمیونٹی کے ارکان کو’’ایسے مواد کو سوشل میڈیا پر شائع کرنے اور پھیلانے کے خطرات‘‘سے خبردارکیا جائے گا اورملک میں نافذ قوانین کی تعمیل کا مطالبہ کیا جائے گا‘‘۔

اٹارنی جنرل نے ایسی ویڈیوزسوشل میڈیا پرشیئر کرنے سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی پرمتنبہ کیا ہے۔اس کے بارے میں انھوں نے کہا کہ اس سے معاشرے میں کنفیوژن پیدا ہوتی ہے۔

انھوں نے ’’افواہوں کے خطرات اورریاست پران کے منفی اثرات کے بارے میں بھی خبردارکیا اور کہا کہ خلاف حقیقت اور بے بنیاد افواہیں سماجی امن کو خطرے میں ڈالنے اوران وجوہات کی بنا پرافراد میں خوف وہراس کی حالت پیدا کرنے کے مقام تک پہنچ سکتی ہیں‘‘۔

متحدہ عرب امارات کے فضائی دفاعی نظام نے پیرکوعلی الصباح ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی جانب سے ابوظبی کو نشانہ بنانے کے لیے داغے گئے میزائلوں کو روک کرناکارہ بنادیا تھا۔یہ ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں ابوظبی پراس طرح کا دوسرا حملہ تھا۔

قبل ازیں17 جنوری کو حوثیوں نے ابوظبی پردومقامات پر حملے میں کروزاور بیلسٹک میزائلوں کے ساتھ ساتھ ڈرون کا استعمال کیا تھا جس کے نتیجے میں تیل کے ایک ٹینکر میں دھماکے سے تین افراد ہلاک اور چھے زخمی ہوگئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں