یواے ای کا حوثی ملیشیا کے حملوں کے بعد دفاعی صلاحیت کوبہتر بنانے پرغور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

متحدہ عرب امارات کی ایک سینیرسفارت کار نے کہا ہے کہ یمن سے ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے میزائل حملوں کے بعد متحدہ عرب امارات اپنی دفاعی صلاحیتوں کواپ گریڈ کرسکتا ہے جبکہ علاقائی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے تہران کے ساتھ سفارت کاری جاری رکھے ہوئے ہے۔

اقوام متحدہ میں یواے ای کی ایلچی لانا نصیبہ نے سی این این کو بتایا کہ ہماری انٹیلی جنس اطلاعات کے مطابق علاقائی تجارتی اور سیاحتی مرکز پرحالیہ دونوں حملے یمن سے کیے گئے ہیں۔اس لیے حوثی گروپ کو ہتھیاروں اورفنڈز کے ناجائز بہاؤ کوروکنے کی بھی ضرورت ہے۔

عرب اتحاد ایران پرحوثیوں کو اسلحہ مہیا کرنے کا الزام عاید کرتا ہے جبکہ ایران اور حوثی گروپ دونوں اس کی تردید کرتے ہیں۔

حوثیوں نے پیر کے روز یواے ای میں امریکی افواج کی میزبانی کرنے والے ایک اڈے کو میزائل حملے میں نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی لیکن امریکی ساختہ پیٹریاٹ میزائل شکن نظام نے اس حملے کو ناکام بنا دیا تھا۔اس سے ایک ہفتہ قبل حوثی ملیشیا نے اماراتی دارالحکومت ابوظبی میں دومقامات پر میزائل اور ڈرون داغے تھے۔اس مہلک حملے میں ایک پاکستانی سمیت تین افراد مارے گئے تھے اور دو زخمی ہوگئے تھے۔

سفیرلانانصیبہ نے امریکا کے ساتھ سکیورٹی کے شعبے میں تعاون بڑھانے سے متعلق بات چیت کی تصدیق کی ہے لیکن انھوں نے اس کی تفصیل فراہم کرنے سے انکار کیا ہے۔واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات اس وقت امریکی ساختہ میزائل شکن نظام تھاڈ استعمال کرتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’ڈرون اور میزائل حملوں کو روکنے اور ان کا رُخ موڑنے کی ہماری صلاحیت عالمی معیارکی ہے مگراس کوہمیشہ اپ گریڈ کیا اوربہتربنایا جاسکتا ہے۔اس کے علاوہ اضافی انٹیلی جنس تعاون ایسے شعبے ہیں جن پرہم اپنے (امریکی) شراکت داروں کے ساتھ بات چیت کررہے ہیں‘‘۔

انھوں نے کہا کہ متحدہ عرب امارات اپنے دوسرے شراکت داروں کے ساتھ بھی یمن میں جاری بحران کے حل کے لیے بات چیت کررہا ہے۔اس کا مقصد حوثی گروپ پراقوام متحدہ کی قیادت میں تعطل کا شکارامن کوششوں میں شریک ہونے کے لیے دباؤ بڑھانا ہے۔

ان کا کہنا تھا :’’یواے ای امریکا پرزوردے رہا ہے کہ وہ حوثی ملیشیا کودوبارہ دہشت گرد قرار دے۔اس کا مطلب ہے کہ حوثی لیڈروں کو دوبارہ پابندیوں کا شکار تنظیموں اور افراد کی فہرست میں شامل کیا جائے۔حوثیوں کو دہشت گرد قرار دینے کا مطلب انھیں ہتھیاروں اور مالی وسائل کی ترسیل سے روکنا ہے‘‘۔

دوسری جانب حوثیوں کا کہنا ہے کہ وہ ان سے لڑنے والی یمنی افواج کی پشت پناہی کرنے پرمتحدہ عرب امارات کو سزا دے رہے ہیں جبکہ 2019 میں یواے ای نے یمن میں جاری لڑائی سے بڑی حد تک دوری اختیار کرلی تھی۔حوثیوں نے جنگ کے دوران میں سعودی عرب کے شہروں اور شہری تنصیبات پربھی مسلسل ڈرون اور میزائل حملے جاری رکھے ہوئےہیں۔

نصیبہ کا کہنا تھا کہ حوثی یواے ای کی محفوظ پناہ گاہ کی حیثیت کو کمزورکرنے میں کامیاب نہیں ہوں گے۔انھوں نے کہا کہ یو اے ای اس طرح کے جارحانہ حملوں کے باوجود ایران کے ساتھ سفارت کاری جاری رکھے گا۔اس کا مقصد خطے میں کشیدگی کو کم کرنا ہے جبکہ وہ یمنی تنازع کے تناظرمیں اپنے دفاع کا’مدافعتی اور جارحانہ‘‘حق محفوظ رکھتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں