دبئی:ابراج گروپ کے بانی عارف نقوی پرمالی بے ضابطگیوں پر13کروڑ60ڈالرجرمانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

دبئی کی فنانشیل سروسزاتھارٹی(ڈی ایف ایس اے)نے ابراج گروپ کے سربراہ عارف نقوی پر مالی بے ضابطگیوں کے الزام میں13 کروڑ 60 (136 ملین)ڈالرجرمانہ عایدکرنے کا اعلان کیا ہے۔

ڈی ایف ایس اے نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان سے تعلق رکھنے والی کاروباری شخصیت عارف نقوی نے اس فیصلے سے اختلاف کیا ہے اور اب فریقین اپنااپنا مقدمہ فنانشیل مارکیٹ ٹرائبیونل (ایف ایم ٹی) کے سامنے پیش کریں گے۔

ڈی ایف ایس اے نے اپنی ویب سائٹ پرجاری کردہ بیان میں کہا کہ مالی جرمانے کی ادائی ایف ایم ٹی کے حتمی فیصلے تک مؤخررہے گی جبکہ دبئی انٹرنیشنل فنانشیل سنٹر(ڈی آئی ایف سی) میں ابراج گروپ کی کاروباری سرگرمیوں پر پابندی کا نفاذ برقرار رہے گا۔

ڈی ایف ایس اے نے کہا کہ ’’عارف نقوی ابراج انویسٹمنٹ لمیٹڈ (اے آئی ایم ایل) کےفنڈزکے غلط استعمال پرسرمایہ کاروں کو گمراہ کرنے میں جان بوجھ کرملوّث تھے‘‘۔یہ فرم کیمین جزائرمیں رجسٹرہے مگر ڈی ایف ایس اے نے اس کوکاروبار کی اجازت نہیں دی تھی۔

بیان میں کہاگیا ہے کہ عارف نقوی پرعاید کیا گیابھاری جرمانہ ان کے مالیاتی جرائم کی سنگینی کی عکاسی کرتا ہے اور یہ ان کی ابراج گروپ سے ہونے والی کمائی پرمبنی ہے۔

ڈی ایف ایس اے نے ابراج کے سابق ایگزیکٹو وقار صدیق پربھی 12 لاکھ ڈالر جرمانہ عاید کیا ہے اوران پر ڈی آئی ایف سی میں پابندی عاید کردی۔وقارصدیق نے بھی ڈی ایف ایس اے کے اقدام پراختلاف کیا ہے اور ٹرائبیونل کے فیصلے تک ان کے جرمانے پر بھی روک لگا دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات نے حالیہ برسوں کے دوران میں مالیاتی جرائم سے متعلق قواعد وضوابط کو سخت کیا ہے اور ان کا سختی ہی سے نفاذ کیا جارہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں