کرونا وائرس

اومیکرون کاذیلی متغیّربی اے.2 ’اصل‘سے زیادہ متعدی :ڈینش تحقیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ڈنمارک میں ایک تحقیق میں پتاچلا ہے کہ کرونا وائرس کی اومیکرون شکل کا ذیلی متغیّر بی اے.2 زیادہ عام اور اصل شکل بی اے.1 سے زیادہ متعدی ہے۔یہ ویکسین لگوانے والے لوگوں کو بھی متاثرکرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اومیکرون کی یہ ذیلی شکل ڈنمارک میں تیزی سے پھیلی ہے۔

اس تحقیق میں دسمبرسے جنوری کے درمیان 8500 سے زیادہ ڈینش گھرانوں میں کروناوائرس کے پھیلاؤ کا تجزیہ کیاگیا ہے۔اس تحقیق سے پتا چلا ہے کہ بی اے.2 ذیلی متغیّرسے متاثرہ افراد میں بی اے.1 سے متاثرہ افراد کے مقابلے میں دوسروں کومتاثرکرنے کا امکان قریباً33 فی صد زیادہ تھا۔

دنیا بھرمیں اومیکرون کے بی اے.1’’اصل‘‘ذیلی متغیّر کے کیس 98 فی صد سے زیادہ ہیں لیکن اس کا قریبی کزن بی اے.2 ڈنمارک میں تیزی سے پھیلا ہے۔

اس مطالعہ کے محققین اس نتیجے پرپہنچے ہیں کہ اومیکرون بی اے.2 فطری طورپر بی اے.1 کے مقابلے میں کافی حد تک زیادہ اثرپذیرہے اور اس میں مدافعتی طور پرمکروہ خصوصیات بھی موجود ہیں جو انفیکشن کے خلاف ویکسی نیشن کے حفاظتی اثرات کومزید کم کرنے کا سبب بنتی ہیں۔

اس مطالعہ کا ابھی تک معاصرمحققین نے جائزہ نہیں لیا ہے۔ اس میں سٹیٹنس سیرم انسٹی ٹیوٹ (ایس ایس آئی)، کوپن ہیگن یونیورسٹی، شماریات ڈنمارک اور ڈنمارک کی ٹیکنیکل یونیورسٹی کے محققین نے حصہ لیا ہے۔

اس تحقیق کے مرکزی مصنف فریڈرک پلسنر نے برطانوی خبررساں ایجنسی رائٹرزکو بتایا کہ ’’اگر آپ کو اپنے گھر میں اومیکرون بی اے.2 کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تو سات دن کے اندر آپ کے متاثر ہونے کا 39 فی صد امکان ہے۔اگر آپ کو اس کے بجائے بی اے.1 کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اس کا امکان 29 فی صد ہے‘‘۔انھوں نے کہا کہ اس سے پتا چلتا ہے کہ بی اے.2 اومیکرون کی شکل بی اے.1 کے مقابلے میں قریباً 33 فی صد زیادہ متعدی ہے۔

بی اے.2 کے کیسوں کا امریکا، برطانیہ، سویڈن اور ناروے میں بھی اندراج کیا گیا ہے لیکن ڈنمارک کے مقابلے میں بہت کم تعداد میں کیسوں کی تشخیص ہوئی ہے جہاں اس کے قریباً 82 فی صد کیس رپورٹ ہوئے ہیں۔

اس مطالعہ سے یہ بھی پتاچلا ہے کہ بی اے.2 ویکسین لگائے گئے اوراضافی تقویتی خوراک لگوانے والے لوگوں کو متاثرکرنے میں بی اے.1 سے نسبتاً زیادہ خطرناک تھا۔یہ اس ذیلی متغیّرکی کسی فرد کی مدافعتی خصوصیات کو متاثر کرنے کی صلاحیت کی نشان دہی کرتاہے۔

لیکن ویکسین اب بھی کرونا وائرس کی تمام شکلوں سے بچاؤ میں اہم کردارادا کررہی ہے۔مطالعہ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ویکسین کی اضافی خوراک لگوانے اور مکمل طور پر ویکسین لگوانے والے افراد،دونوں کاویکسین نہ لگوانے والوں کے مقابلے میں متاثرہونے کا امکان کم ہے۔

ایس ایس آئی کے ابتدائی تجزیے سے پتاچلا ہے کہ بی اے.1 کے مقابلے میں بی اے۰2 کے مریضوں میں اسپتال میں داخل ہونے کے خطرے میں کوئی فرق نہیں ہے۔

برطانیہ کی ہیلتھ سیکورٹی ایجنسی کے مطابق اس تحقیق میں انگلینڈ کے ابتدائی تجزیے کی بھی تصدیق کی گئی ہے جس سے پتاچلتا ہے کہ بی اے.2 شکل بی اے.1 قسم کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے نمو پاتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں